زنجیر کے ماتم کا خون اگر کپڑے پر لگا ہو تو کیا اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں؟

دس محرم کے دن زنجیر کا ماتم کیا ہےاور اس کا خون کپڑے پر لگاہے تو کیا اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:

سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

انسانى جسم سے نكلنے والا خون چاہے وہ منہ سے نكلے يا كسى اور جسم كے حصے سے نجس ہے ۔ اگر خون لباس پر لگا ہو تو لباس كو پاک كرنا ضرورى ہے۔ 

چار موارد ايسے ہيں جن ميں نماز گزار كے ليے نجس شىء معاف ہے اور اس نجس شىء كے ہمراہ نماز صحيح ہے ۔ ان ميں سے دو موارد خون سے تعلق ركھتے ہيں۔

زخم، پھوڑے اورپھنسيوں كا مادہ

بدن اور لباس ميں ان دونوں كا خون اور مواد معاف ہے ۔ زخم كے ليے ضرورى ہے كہ وہ اس قدر ہو كہ وہ زخم شمار ہو سكے ۔ اگر ہلكے پھلكے زخم ہيں جنہيں عموما زخم شمار نہيں كيا جاتا تو اگر ان ميں سے رسنے والا خون ايک درھم کے حجم كى مقدار سے زائد ہو تو ان سے نكلنے والے خون كو بدن اور لباس سے پاك كرنا واجب ہے اور اس طرح كے ہلكے پھلكے زخموں سے رسنے والا خون نماز ميں معاف نہيں ہے۔

اگر خون نكلے اور اس خون ميں كسى شىء يا پانى كى آميزش نہ ہوئى ہو اور وہ خون ايك درھم كے حجم سے كم ہو تو يہ خون معاف ہے ۔ ايک درھم كے حجم كى مقدار سے مراد ہاتھ كے انگوٹھے كے اوپر كے حصے كى مقدار ہے جو ناخن اور اس كے ساتھ نيچے كے كچھ حصے كو شامل ہوتا ہے۔ عربى زبان ميں اس كو ’’ عقد الإبھام ‘‘ كہتے ہيں ۔ پس اگر خون كسى غير كا نہيں بلكہ اپنے بدن كا ہے ، اس خون ميں كسى شىء كى آميزش نہيں ہوئى اور وہ درھم كى مقدار سے كم ہے تو اس مقدار كا خون اگر لباس پر لگا ہوا ہے تو اس سے نماز ہو جائے گى ۔ نيز لباس سے مراد وہ شىء ہے جو انسان كى شرمگاہ كو نہ چھپائے ، اس ليے ہر وہ چيز لباس شمار ہوتى ہے جو اس قدر وسيع ہو جو شرمگاہ كو چھپا لے ۔ اس بناء پر ٹوپى، جراب، وغيرہ وہ مقدار نہيں ہے جو شرمگاہ كو ڈھانپ سكے اس ليے ان كے نجس ہونے سے نماز باطل نہيں ہوتى، ۔ البتہ احتياطِ واجب يہ ہے كہ يہ چيزيں نجس العين جانور جيسے كتا و خنزير يا نجس مردار سے نہ بنى ہوئى ہوں۔

درھم کے حجم كى مقدار سے كم وہ خون معاف ہے جو انسان كے اپنے جسم سے نكلے ۔ البتہ اس ضابطہ سے چند قسم كے خون مستثنى ہيں اور ان كا ايك قطرہ بھى معاف نہيں ہے۔ 

 ۱۔خونِ حيض 

 ۲۔خون نفاس 

 ۳۔خون استحاضہ

احتياط لازم كى بناء پر} {

 ۴۔نجس العين جيسے كتا و خنزير كا خون 

 ۵۔مردار كا خون 

 ۶۔وحشى درندوں كا خون 

بلكہ ہر وہ شىء جس كا گوشت كھانا حرام ہے ، جيسے انسان كا خون ان كى قليل سى مقدار بھى معاف نہيں ہے اس ليے نمازى كے 

ليے ضرورى ہے كہ وہ ان كى قليل سى مقدار حتی ايك قطرے كو بھى اپنے بدن اور لباس سے پاک كرے۔ 

حوالہ:

http://www.sistani.org/arabic


 

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
3
شیئر کیجئے