پوسٹ نمبر : 305 8 ملاحظات

کیا چاند کا نکلنا تقلیدی مسئلہ ہے ؟

کیا چاند کا نکلنا تقلیدی مسئلہ ہے اور کیا ولی فقیہ کے حکم سے چاند ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں ؟اگر ولی فقیہ کہے چاند نہیں ہوا ہے اور ہم نے اپنی آںکھوں سے دیکھا ہے کہ چاند ہوا تو کس کی بات مانی جائے گی ؟

مختصر جواب :

بسم االلہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ

چاند مجتہد کے فتوے سے ثابت نہیں ہوتا ، بلکہ رویت ، یا دو عادل کی گواہی ، یا اطمینان بخش شہرت ، یا حکم حاکم ، یا مہینہ کے تیس دن گذرجانے سے ثابت ہوتا ہے۔ تو معلوم یہ ہوا کہ اس سلسلہ میں مرجع کے فتوے کے مقابلہ میں دو عادل کی گواہی یا ولی فقیہ کا حکم زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔

تفصیلی جواب :

بنیادی طور سے چاند کا نکلنا یا نہ نکلنا ایک تکوینی امر ہے نہ کہ تشریعی، اسی لئے چاند کا ثابت ہونا یا نہ ہونا تقلیدی مسئلہ نہیں ہے، ہمیں جہاں تشریعی حکم معلوم کرنا ہو وہاں تقلید ہوتی ہے ، چاند دکھ گیا یا نہیں ؟! اس کا ربط احکام سے نہیں ہے، جس میں تقلید ہو ۔ اور مجتہد کی تقلید احکام میں ہوتی ہے موضوعات میں نہیں، یعنی مجتہد یہ بتا سکتا ہے کہ شراب کا حکم کیا ہے، سرکہ کا حکم کیا ہے، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس گلاس میں شراب ہے یا سرکہ ؟ یہ سوال موضوع کے سلسلہ میں ہے حکم کے سلسلہ میں نہیں ، ہم مجتہد سے احکام پوجھتے ہیں، احکام میں مجتہد کی تقلید ہوتی ہے موضوعات میں نہیں، موضوع کی تشخیص خود مکلف کی ذمہ داری ہے، مجتہد کی نہیں ۔ 

یہ بات اپنی جگہ درست ، مگر چاند کا مسئلہ ایک لحاظ سے موضوعی ہے، تو دوسرے کئی لحاظ سے اجتہادی اور تقلیدی بھی ہے ۔ 

چاند دکھ گیا یا نہیں، یہ مسئلہ موضوعی ہے، اس میں تقلید نہیں ہوتی ۔ لیکن چاند دیکھنے کے معیارات کیا ہیں؟ 

مصداق رویت کیا ہے؟ 

آیا رویت موضوعیت رکھتا ہے یا طریقیت؟ 

آیا رویت میں ٹلسکوپ اور سائینس معتبر ہے یا نہیں؟ 

صدق ہلال کا معیار کیا ہے؟ 

محض محاق سے نکلنا اور متولد ہو جانا صدق ہلال کے لئے کافی ہے یا کمانی شکل میں ظاہر ہونا بھی شرط ہے؟ 

متولد ہونے کے بعد کمانی شکل میں ظاہر ہونے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟ 

کیا اس عرصہ کے تعین کے لئے سائینس کے پاس کوئی قابل قبول واحد معیار ہے؟ 

اگر ایک جگہ چاند دکھ گیا تو کہاں کہاں کے لئے یہ رویت معتبر ہے؟ 

ہم افق ہونے کا معیار کیا ہے؟ 

کیا ہم افق ہونا ثابت چیز ہے یا ہم افق ہونا بھی بدلتا رہتا ہے ؟ 

۔ ۔ ۔

اس طرح کے اور بھی بہت سے علمی اور فنی سوالات ہیں جن کے بارے میں مجتہدین میں علمی اختلافات پائے جاتے ہیں، اور یہ علمی اختلافات اپنی جگہ محترم بھی ہیں، مگر معاشرہ میں لوگوں کے درمیان عملا اس علمی اختلاف سے بچنے کے لئے جو حکمت عملی علما نے بیان کی ہے وہ سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ ایک عام مکلف کے لئے چاند ثابت ہونے کے یہ طریقے ہیں :

۱۔ خود انسان چاند دیکھ لے :

چنانچہ اگر خود اس نے چاند دیکھ لیا پھر اگر مرجع تقلید بھی کہے کہ چاند ثابت نہیں تب بھی اس کے لئے خود اس کا دیکھا ہوا معتبر ہوگا ، دوسرے لوگ مرجع کے اعلان کی بنا پر روزہ رکھیں تو رکھیں لیکن جس نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا ہے اور اپنی رویت پر اسے پورا بھروسہ اور یقین ہے تو پھر روزہ اس پر حرام ہے ۔

۲۔ دو عادل کی گواہی :

دو عادل گواہی دیں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے، اور اس پر کوئی اختلاف نہ کرے 

۳۔ شہرت : 

شہرت ایسی کہ اس پر اطمینان ہوجائے 

۴۔ حاکم شرع یعنی ولی فقیہ کا اعلان کرنا :

یہیں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس سلسلہ میں تنظیم امت کے لئے ایک مجتہد اور مرجع سے بڑھ کر ولی فقیہ کے اختیارات ہوتے ہیں، تا کہ وہ امت مسلمہ کے عمومی مصالح کی پاسبانی کرتے ہوئے سب کی طرف سے خود استھلال کی ذمہ داری لیتا ہے ، اور ظاہر سی بات ہے چونکہ وہ حاکم ہے لہذا استھلال کا حق ادا کرنے کے لئے وہ اپنے تمام وسائل و اختیارات کو بروئے کار لا سکتا ہے ، اور ایک امین کی طرح استھلال کے تمام مراحل کو طئے کرنے کے بعد فیصلہ لیتا ہے اور اعلان کرتا ہے ، اور اس لحاظ سے اس کا فیصلہ زیادہ اطمینان بخش ہو سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں بعض علما کے مطابق ولی فقیہ کا یہ فیصلہ حکم کی حیثیت رکھتا ہے ۔

۵ ۔ مہینہ کا تیس دن گذر جانا ۔

والسلام 

مزید تفصیلات اور حوالے :

Khamenei.ir

Sistani.org

Hawzah.net

Mashreghnews.ir

Wikipedia.org/Orbit_of_the_Moon 

Wikipedia.org/Apsidal_precession

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے