کن چیزوں پر سجدہ صحیح ہے ؟

جواب

 جن چیزوں پر سجدہ صحیح ہے  

            ۱۔زمین                           

            ۲۔یا زمین سے اگنے والی چیزیں

                                                بشرطیکہ

۱۔ کھائی نہ جاتی ہو

۲۔ پہنی نہ جاتی ہو

۳۔ معدنیات میں سے نہ ہو

۱۔          سجدہ زمین پر یا زمین سے اگنے والی ایسی گھاس پھوس یا پتیوں پر کرنا چاہئیے کہ جو کھائی نہ جاتی ہوں جیسے پتھر، مٹی، لکڑی، درختوں کے پتے وغیرہ لیکن زمین سے اگنے والی جو چیز کھائی یا پہنی جاتی ہے جیسے روئی، گیہوں یا اس کا شمار معدنیات میں ہوتا ہے جیسے لوہا، شیشہ وغیرہ ان پر سجدہ صحیح نہیں ہے۔

۲۔         سنگ مرمر یا اسی قسم کے دوسرے پتھر جو عمارت کی تعمیر یا آرائش میں استعمال ہوتے ہیں ان پر سجدہ صحیح ہے اسی طرح عقیق، فیروزہ اور درّ(نجف)پر بھی سجدہ صحیح ہے اگرچہ احتیاط (مستحب) یہ ہے کہ عقیق، فیروزہ وغیرہ پر سجدہ نہ کیا جائے۔

۳۔        جو چیزیں زمین سے اگتی ہیں اور انہیں صرف جانور کھاتے ہیں جیسے گھاس، بھوسا وغیرہ ان پر سجدہ صحیح ہے۔

۴۔         چائے کے ہرے پتے پر بناء براحتیاط واجب سجدہ صحیح نہیں ہے لیکن کافی کے پتوں پر سجدہ صحیح ہے اس لئے کہ کافی کے پتے کھانے پینے میں استعمال نہیں ہوتے۔

۵۔         ایسے پھول جو کھائے نہیں جاتے یا صرف دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جیسے گل بنفشہ، ختمی کے پھول وغیرہ ان پر سجدہ صحیح ہے لیکن ایسی گھاس یا سبزیاں جو علاج و معالجہ کے علاوہ دیگر طبی خصوصیات کی بنا پر کھائی جاتی ہیں جیسے خاکشیر وغیرہ ان پرسجدہ صحیح نہیں ہے۔

۶۔         جو گھاس پھوس یا پتے بعض علاقوں میں کھائے جاتے ہوں یا ایک ہی علاقہ کے صرف چند لوگ کھاتے ہوں (جیسے پان) تو ایسی چیز بھی کھائی یا پینے جانے والی چیزوں میں شمار ہوگی اور اس پر سجدہ صحیح نہیں ہے۔

۷۔        اینٹ،جپسم، پکا ہوا ٹھیکرا،چونا پتھراور سیمنٹ پر سجدہ صحیح ہے۔

۸۔         جوکاغذ سوت اور روئی کے علاوہ کسی اور لکڑی یا گھاس پوس سے بنایا جائے اس پر سجدہ صحیح ہے۔

۹۔         اگر کوئی ایسی چیز نہ ہو کہ جس پر سجدہ کرنا چاہئیے یا سردی یا گرمی وغیرہ کی وجہ سے ان پر سجدہ نہ کرسکے چنانچہ اگر اس کا لباس سوت یا روئی کا ہو یا سوت و روئی کی کوئی چیز اس کے پاس ہو تو اس پر سجدہ کرنا چاہیۓ اور احتیاط (واجب) یہ ہے کہ جب تک سوت یا روئی سے بنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کرنا ممکن ہو دوسری قسم کے کپڑوں پر سجدہ نہ کرے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو بنا بر احتیاط واجب اپنے ہاتھ کی پشت پر سجدہ کرے۔

۱۰۔        اگر نماز کے دوران ایسی چیز گم ہوجائے کہ جس پر سجدہ کر رہا تھا اورکوئی ایسی چیز بھی دستیاب نہ ہو کہ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے چنانچہ اگر وقت میں گنجائش ہو تو نماز کو توڑ دے اور اگر وقت تنگ ہو تو گذشتہ مسئلہ میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق عمل کرے۔

۱۱۔         جہاں نمازی کے لئے تقیہ کرنا ضروری ہے وہاں فرش وغیرہ پر سجدہ کر سکتا ہے اور نماز کے لئے دوسری جگہ جانا ضروری نہیں ہے لیکن اگراسی جگہ کسی خاص زحمت کے بغیرچٹائی یا پتھر وغیرہ پر سجدہ کر سکتا ہو تو ان چیزوں پر سجدہ کرنا چاہئیے۔

۱۲۔        اگر پہلے سجدہ میں سجدہ گاہ پیشانی سے چپک جائے تو دوسرے سجدہ کے لئے سجدہ گاہ کو الگ کرنا چاہئیے اور اگرالگ نہ کرے بلکہ اسی طرح سجدہ میں چلا جائے تو نماز کی صحت میں اشکال ہے۔

            توجہ

            بہترین سجدہ خاک اور زمین پر سجدہ ہے کہ اس سے خداوند عالم کی بارگاہ میں خضوع و خشوع کا اظہار ہوتا ہے۔ اور فضیلت کے اعتبار سے کوئی خاک، سیدالشہداؑء کی مقدس تربت ’’خاک شفا‘‘کے برابر نہیں ہوسکتی۔


اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
9
شیئر کیجئے