پوسٹ نمبر : 567

کیا رشیدہ لڑکی کو شادی کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے ؟

سلام علیکم ورحمہ

اگر کوئی لڑکی کام کرتی ہو اور اس کی مستقل آمدنی ہو ،صرف باپ کے گھر میں رہتی ہو بالغ ہو عاقل ہو رشیدہ ہوتو کیا اسے متعہ یا شاد ی کرنے کا حق ہے کیا شادی یا متعہ کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے ؟

جواب :

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

سلام علیکم و رحمۃ اللہ

شرعی نقطہ نظر سے نکاح دائم یا متعہ کے لئے، لڑکی اگر باکرہ ہے تو اس کے ولی (والد یا دادا) کی رضایت ضروری ہے، رہبری معظم آیۃ اللہ خامنہ ای کی نظر میں احتیاط واجب کی طور پر لڑکی کے ولی کی اجازت ضروری ہے ۔

آیۃ اللہ خامنہ ای ، رسالہ منتخب الاحکام ، م 2037

Leader.ir استفتا، ۵۵۳۴۹

اور آیۃ اللہ سیستانی کی نظر میں لڑکی اگر چہ رشیدہ بھی ہو لیکن اگر اس کی آمدنی باپ سے مستقل نہیں ہے تو ولی کی اجازت ضروری ہے۔ اور اگر لڑکی رشیدہ ہے اور اس کی آمدنی مستقل ہے تو بھی احتیاط واجب کے طور پر لڑکی کی ولی کی اجازت ضروری ہے ۔

مسأله ۲۳۹۵  Sistani.org

البتہ اس کے بھی کچھ حد و حدود ہیں، منجملہ اگر لڑکی رشیدہ ہو ، شادی کی اسے ضرورت ہو ، اور ہر لحاظ سے معقول رشتہ بھی موجود ہو اور والدین خدانخواستہ بلاوجہ انکار پر ضد کر رہے ہوں تو ایسی صورت میں شادی کے لئے ان کی رضایت ضروری نہیں ۔

مسأله ۲۳۹۶  Sistani.org

اب یہاں پر اس کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ رشیدہ کہتے کسے ہیں : 

رشیدہ اسے کہتے ہیں جو :

اپنی مصلحتوں کو صحیح سے سمجھتی ہو، 

زندگی میں اچھے برے کی تمیز ہو، 

اپنے امور میں صحیح فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتی ہو،

جذبات میں کسی کے بھڑکانے میں نہ آتی ہو، 

جس میں اچھی خاصی سوجھ بوجھ ہو

کسی کے دھوکہ میں آجانے کا خطرہ نہ ہو، 

اپنے مستقبل کے سلسلہ میں سنجیدہ ہو، اور عاقبت اندیش ہو،

اپنی اور اپنے خاندان کی عزت و آبرو کا پاس و لحاظ رکھتی ہو ، 

ایسی لڑکی کو رشیدہ کہا جاتا ہے ۔ 

لیکن جس میں یہ صفات نہ ہوں اگرچہ سن و سال کے اعتبار سے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اور چاہے کتنی ہی ڈکریوں کی حامل کیوں نہ ہو ، بھلے باہر وہ نوکری ہی کیوں نہ کر رہی ہو، وہ رشیدہ نہیں کہلائے گی ۔ 

کیونکہ آج کل الٹی اور اوندھی دنیا میں نوکری کرنے کو رشد اور عقلمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عقلی اعتبار سے اکثر انہیں مفلوج پایا گیا ہے ۔ کیونکہ ان لوگوں کی سونچ بھی زیادہ تر خوداپنی نہیں ہوتی بلکہ فیلموں ، ٹی وی ڈراموں ، میڈیا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی القا کردہ ہوتی ہیں ۔  

واقعہ یہ ہے کہ  آج کل کا نظام تعلیم صرف پڑھنا لکھنا سکھاتا ہے ، چند سطحی معلومات بھی  فراہم کر دیتا ہے البتہ ان معلومات کو حقیقتا علم نہیں کہا جا سکتا مگر علم کی حقیقت سے نا آشنا معاشرہ غلط فہمی میں  اسے علم  ہی کہتا ہے، لہذا ڈگریاں لینے کے بعد عالم ہونے کے زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بہرحال یہ  افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج کل کا نظام تعلیم ،علم نہیں دیتا ، بلکہ چند معلومات رٹا دیتا ہے  اور نوکری پر لگ جانے کے کچھ ہنر سکھا دیتا ہے، اس نظام میں تفکر ، تدبر اور تعقل جیسی چیزوں کی کوئی گنجایش نہیں ، حالانکہ قرآن نے بار بار تفکر ، تدبر اور تعقل کی نہایت تاکید کی ہے ۔

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
1
شیئر کیجئے