شلمغانی کون تھا؟

جواب

سلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ابوجعفر محمدبن علی المعروف ابن ابی عزاقر، ابتدائی طور پر تو شیعہ علماء میں سے اور برحق مذہب پر تھا اور روایات اہلبیت علیہم السلام پر مشتمل کتابیں بھی لکھیں ہیں، لیکن جب حضرت امام زمانہ حجت بن الحسن علیہ السلام نے جناب ابوالقاسم حسین بن روح کو اپنا نائب خاص منتخب فرمایا تو اس نے ان سے حسد کا مظاہرہ کیا اور مذہب حقہ سے منحرف ہوگیا۔ اور اپنی زبان سے غلو، حلول اور تناسخ جیسے کفریہ کلمات بیان کرنا شروع کردیئے۔ جس کی وجہ سے حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی جانب سے اس کی مذمت اور لعنت پر توقیعات صادر ہوئیں اور یہ صورت حال عباسی خلیفہ ’’مقتدر‘‘ اور اس کے وزیر’’ ابن مقلہ ‘‘کے دورحکومت میں پیش آئی ’’ابن مقلہ‘‘ نے اس کی اور اس کے پیروکاروں کی گرفتاری کے احکام جاری کر دیئے اور شوال ۳۲۳ ہجری میں اسے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کے دو پیروکاروں ’’ابن ابی عون‘‘ اور’’ ابن عبدوس‘‘ کو بھی گرفتار کرلیا۔ ان دونوں صاحبان نے بھرے مجمع میں شلمغانی کے متعلق کہنا شروع کر دیا۔ کہ ’’یہ خدا ہیں‘‘ اور خلیفہ سے بھی ذرہ برابرخوف نہ کیا۔ اسی لیے ان سب کو اسی سال ماہ ذیقعدہ میں پھانسی دیدی گئی اور پھر ان کے لاشوں کو نذر آتش کردیا۔

شلغمانی نے گمراہ ہونے سے پہلے جو کتاب لکھی اس کا نام ’’التکلیف‘‘ ہے اور مرحوم شیخ مفید نے باب الشہادت میں ایک حدیث کے علاوہ اس کتاب کو نقل کیا ہے۔

ابوالقاسم حسین بن روح نے حضرت امام عصر علیہ السلام سے اس کی کتابوں کی حجیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کی روایات کو لے لو لیکن عقائد سے اجتناب کرو۔

(جامع الرواۃ لغت نامہ دہخدا۔ بحار الانوار ج ۲ ص ۲۵۲)

 حسین بن روح نے اس کے باطل عقائد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں کفر اور الحاد سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ اس کے غالیانہ عقائد ہوں یا حلول اور تناسخ کا نظریہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں اوریہ عیسائیوں کی طرح کے عقائد ہیں جو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔ اسی بناپراسے مذہب تشیع سے دھتکار دیا گیااور اس کے باطل افکار کو نشرکر کےاسے قوم  کےدرمیان میں رسوا کر دیا  گیا۔


 حوالہ :

نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ، تالیف علامہ محمد علی فاضل

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے