پوسٹ نمبر : 621 4 ملاحظات

کیا تقلید میں تبعیض جائز ہے ؟

سلام علیکم

مزاج گرامی:

کیا رھبر تقلید میں تبعیض کے قائل ہیں خاصطور سے متعہ کے مسئلہ میں اورکیا کسی اور زندہ مجتہھد نے متعہ میں ولی کی اجازت کو شرط نہ جانا ہو اگرکوئی ایسا مجتھد موجود ہے جس نے متعہ میں ولی کی اجازت کوشرط نہ جاناتو اس کانام بتایے؟

سلام علیکم

مزاج گرامی:

جن کی میں تقلید کرتا تھا وہ تقلید میں تبعیض کو احتیاط کے خلاف جانتے تھے اور جو مجتہد جائز جانتے تھے ان کی تقلید کرتا تھا اور میت کی تقلید میں تیسرے کی تقلید کرتا تھا اور مردہ مجتہد ، اعلم کی تقلید کو واجب نہیں سمجھتے تھے اور میں نے تبعیض کے مسئلہ میں دوسرے کی اور غیر اعلم کی تقلید میں تیسرے کی تقلید کی ہے اور کئی مجتہد کی ایک ساتھ تقلید کی ہے ، کیا میری تمام تقلیدیں صحیح ہیں ؟

جواب :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ 

تقلید میں تبعیض کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فقہ کے ابواب میں سے کسی باب میں ایک مجتہد کی تقلید کرے تو دوسرے باب میں دوسرے کی تقلید کرے ؛ تیسرے باب میں تیسرے کی تقلید کرے ۔ ۔ ۔ 

آیۃ اللہ وحید خراسانی کے علاوہ تمام مراجع تقلید کے نزدیک چند شرایط کے ساتھ تقلید میں تبعیض جائز ہے ۔ 

شرایط جواز تبعیض :

۱۔ تمام مجتہدین جملہ شرایط مرجعیت جیسے علم ، تقوی اور ورع میں مساوی ہوں

۲۔ مسائل ایک دوسرے سے مربوط اور متزاحم نہ ہوں 

۳۔ تبعیض در تقلید کھیل نہ بن جائے ۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ معیار محض ہماری پسند بن جائے ، جس کا فتوی ہمیں زیادہ پسند ہے اس کو لے لیا ، کہ اگر خدانہ خواستہ ایسا ہو تو اللہ کی شریعت کھیلواڑ بن کے رہ جائے گی ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔

البتہ یاد رہے مذکورہ شرایط کا احراز عام لوگوں کے لئے تو بہت دور، بلکہ عام طالبعلموں کے لئے بھی آسان نہیں ہے ، لہذا عام لوگ ایک ہی اعلم کی تقلید کریں اور تقلید میں تبعیض سے پرہیز کریں تو بہتر ہے ۔

تقلید میں تبعیض کا مطلب اصل میں اعلم کی ہی تقلید ہے ، جب مختلف ابواب میں اعلم متعدد ہوں یعنی ایک فلاں باب میں اعلم ہو تو دوسرا دوسرے باب میں ایسی صورت میں تبعیض در تقلید ہی درست ہے ، تبعیض در تقلید کا مطلب فالاعلم کی تقلید نہیں ہے بلکہ کسی باب میں اعلم کی ہی تقلید ہے ، یہ جو فالاعلم کی طرف رجوع کرنے کو کہا جاتا ہے اس وقت ہے جب اعلم کسی مسئلہ میں احتیاط واجب کہے ۔ یاد رہے کہ اس طرح کا رجوع تبعیض در تقلید نہیں ہے ۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے تا کہ خلط نہ ہو جائے ۔ 

یہ بھی یاد رہے کہ تبعیض در تقلید کا مسئلہ فقہ کے تمام ابواب میں یکساں ہے متعہ یا غیر متعہ سے مخصوص نہیں ہے ۔

حوالے :

آيت الله روح اللہ الموسوی امامخميني(ره)، استفتاءات، ج 1، س 8 و 9؛

آيت الله خامنه اي، اجوبة الاستفتاءات، س 18؛

آيت الله سيستاني، تعليقات علي العروة، م 13 و 33.

آيت الله تبريزي، استفتاءات، س 42؛

آيت الله وحيد خراسانی، توضيح المسائل، م 4.

آيت الله بهجت، وسيلةالنجاة، ج 1، م 4 و توضيح المسائل، م 5؛

آيت الله صافي، جامع الاحكام، ج 1، س 13 و 14،

آيت الله فاضل، جامع المسائل، ج 1، س 11 و 12؛

آيت الله مكارم، استفتاءات، ج 2، س 11؛

آيت الله نوري، استفتاءات، ج 2، س 11 و ج 1، س 4؛

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے