تحریف قرآن کریم کے سلسلہ میں شیعوں کا کیا موقف ہے؟

تحریف، تبدیلی، کمی اور اضافہ سے قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے سلسلہ میں امامیہ شیعہ کا کیا موقف ہے؟

جواب

قرآن مجید قلب نبی اکرم ﷺ پر ناقابل خطا و لغزش وحی کے ذریعہ نازل ہونے والی کتاب ہے۔ اس کتاب کی تلاوت فرض کر دی گئی ہے اور اس کے ذریعہ قیامت تک جن و انس کو چیلنج کیا جاتا رہے گا (کہ ایسی کتاب لا سکتے ہو تو لاؤ)۔ خود اللہ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے لہذا باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے، یہ حکمت والے اور لائق ستائش کی نازل کردہ ہے۔ آج بھی قرآن مجید اسی طرح ہمارے پاس موجود ہے جسطرح اللہ نے نازل کیا تھا۔ اس میں ابتداء سے اب تک ایک سو چودہ سورے رہے ہیں جن کی ترتیب سورہ حمد سے شروع ہوکر  سورہ والناس پر ختم ہوتی ہے۔ جو اس کتاب الہی میں کمی و بیشی کی بات جہل و نادانی کی بنیاد پر کہے وہ بہت بڑی خطا سے دوچار ہے اور جو افراد عمداً اور جرح و تنقیص کی غرض سے اس طرح کی خیال رکھتے ہیں گویا انہوں نے خود کو دائرہ اسلام سے باہر نکال لیا ہے ۔ اسلام ان سے بیزار ہے۔

علمائے اعلام اور ائمہ مذہب نے واضح تاکید فرمائی ہے کہ کمی و بیشی اور حذف و اضافہ سے قرآن کا محفوظ ہونا یقینی ہے۔ اور فریقین کے بعض علماء کے ان باطل آراء و افکار کی کوئی حیثیت نہیں جن کا سبب تنزیل و تاویل کے فرق سے غفلت ہے۔ اسی طرح بعض ایسی تفسیری احادیث ہیں جن کے بارے میں بعض افراد کو وحی قرآنی کا گمان ہوگیا ہے۔ ایسے شاذ و نادر اخبارِ آحاد کو ہم صحیح نہیں جانتے اور ان سے قرآن مجید کی سلامتی متاثر نہیں ہوتی۔

اسلاف سے اخلاف تک تمام علمائے مذہب اور مراجع دین نے اس بات کی تاکید کی ہے وہ تمام روایات جن میں قرآن مجید میں کمی و بیشی کا وہم و گمان مرقوم ہے، مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر باطل اور نا قابل قبول ہیں:

۱۔ یہ شاذ روایات اس بدیہی بات سے متصادم ہیں کہ قرآن مجید عہد نبی اکرم ﷺ میں ہی یکجا کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تحریف کی بات پر مشتمل روایات ، اخبارِ آحاد ہیں اور قرآن خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ متواتر روایات سے قابل اثبات ہے۔

۲۔ ان میں بیشتر روایات ضعیف اور جعلی ہیں اور ان کی اسناد میں مجہول اور جھوٹے راوی شامل ہیں۔

۳۔ یہ روایات اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس ارشاد کے برخلاف ہیں: 

{ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحافِظُون}[1]

" اس ذ کر کو یقینا ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ "

۵۔ ان میں بہت سی روایات ، آیات قرآنیہ کے معانی و مفاہیم کی تفسیر و وضاحت کے لئے بیان ہوئی ہیں۔

اس قسم کی شاذ اور ناقابل قبول روایات اہل سنت کی بعض کتب تفسیر و احادیث میں منقول ہیں جن کی فریقین کے علماء تردید کرتے ہیں اور کلام خدا سے ان کی نسبت کے منکر ہیں۔ ان میں سے آٹھ روایات ہیں جن میں قرآن میں کمی کی بات آئی ہے۔ چنانچہ مسلم نیشاپوری اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری نے بصرہ کے قرّاء سے کہا:

«وإنا كنا نقرأ سورة كنا نشبهها في الطول والشدة ببراءة فأنسيتها، غير أنّي حفظت منها لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى وادياً ثالثاً ولا يملأ جوف ابن آدم إلّا التراب»[2] .


" ہم پہلے قرآن مجید کے ایک ایسے سورہ کی تلاوت کیا کرتے تھے جو ہماری نظر میں سورۀ برائت کی طرح طولانی و مستحکم تھا ۔ میں اسے بھول گیا ہوں۔ صرف یہ آیت یاد رہ گئی ہے جس میں آیا ہے کہ اگر انسان کو مال و دولت کی دو وادیاں بھی مل جائیں تو اسے تیسری وادی کی آرزو رہےگی۔ ابن آدم کا پیٹ خاک کے علاوہ کسی چیز سے نہیں بھر سکتا۔"

اس کے علاوہ منقول ہے کہ"خلع" اور "حفد" نام کے دو سورے بھی ابن عباس، ابی بن کعب اور ابن مسعود کے مصحفوں کا حصہ تھے۔ نیز یہ بھی اس کتاب میں ذکر ہے کہ قرآن میں ایک آیت تھی جس میں بیان ہوا تھا کہ اگر بچہ کسی عورت کا دس مرتبہ دودھ پی لے تو وہ اس کا محرم ہوجائےگا۔ رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد تک یہ آیات، قرآن مجید میں اسی طرح پڑھی جاتی تھیں…(صحیح مسلم ج۲، ص۱۰۷۵)۔ ان روایات کے مزید مطالعہ کے لئے رجوع کیجئے: الاتقان، سیوطی، ج۳، ص ۸۲؛ الدر المنثور، سیوطی، ج۶، ص۵۵۹؛ روح المعانی، آلوسی، ج۱، ص۲۵؛ المستدرک، حاکم نیشاپوری، ج۴، ص۲۵۹؛ صحیح مسلم، اور قرطبی کی الجامع وغیرہ۔

چنانچہ علمائے اہل سنت نے یا تو ان روایات کو باطل جانا ہے یا ان کے منسوخ التلاوہ ہونے کی بات کہی ہے[3]۔ انہوں نے قرآن مجید کے محفوظ ہونے پر تاکید کرتے ہوئے اپنی کتب میں موجود شاذ روایات کو ناقابل قبول جانا ہے۔ اسی طرح علمائے مذہب امامیہ بھی اپنی کتب میں موجود بعض شاذ روایات پر اعتماد نہ کرتے ہوئے ان میں سے کچھ کو ضعیف جانتے ہیں جبکہ کچھ کو آیات قرآنیہ کی تفسیر گردانتے ہیں ، خود آیت نہیں۔[4] ان علماء کی نظر میں ایسے افراد خطاکار ہیں جو اس قسم کی سنی و شیعہ روایات کے ظواہر سے استدلال کرتے ہیں۔ 

چنانچہ شیخ صدوق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

شیخ صدوق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

"«اعتقادنا في القرآن أنّه كلام الله ووحيه، وتنزيله، وقوله، وكتابه، وأنّه لا يأتيه الباطلُ من بينِ يديهِ ولا مِن خلفهِ، وأنّه القصص الحقّ، وأنّه قول فصل وما هُو بالهزلِ، وأنّ الله تعالى محدثه، ومنزله، وحافظه، وربّه. اعتقادنا أنّ القرآن الذي أنزله الله تعالى على نبيّه محمّد9 هو ما بين الدفّتين، وهو ما في أيدي الناس، ليس بأكثر من ذلک، ومبلغ سوره عند الناس مائة وأربع عشرة سورة. ومن نسب إلينا أنّا نقول إنّه أكثر من ذلک فهو كاذب»[5] ."

قرآن مجید کے سلسلہ میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ اللہ کا کلام، اسی کی وحی، اسی کی نازل کردہ، اسی کا قول اور اسی کی کتاب ہے۔ باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے۔ اس کتاب میں سچے واقعات موجود ہیں۔ وہ یقیناً فیصلہ کن کلام ہے، کوئی ہنسی مذاق کی کتاب نہیں۔ اللہ اس کا موجد، نازل کرنے والا، حفاظت کرنے والا اور رب ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ نے جس قرآن کو اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے وہ یہی دو جلدوں کے درمیان موجود قرآن ہے جو لوگوں کے پاس ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کے سوروں کی تعداد ایک سو چودہ ہے۔ جو بھی اس سے زیادہ سوروں کے قول کی نسبت ہماری طرف دیتا ہے وہ جھوٹا ہے۔

آیۃ اللہ خوئی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب البیان فی تفسیر القرآن میں لکھتے ہیں:

مسلمانوں کے یہاں یہ بات معروف اور مسلّم الثبوت ہے کہ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہوئی ہے اور موجودہ قرآن ہی مکمل قرآن ہے جو نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوا۔ بہت سے بزرگ علماء نے اس کی تصریح کی ہے۔ منجملہ: رئیس المحدثین شیخ صدوق محمد بن بابویہ جنہوں نے قرآن کی عدمِ تحریف کو شیعوں کے مسلمہ عقائد کا حصہ جانا ہے۔ شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی جنہوں نے اپنی تفسیر (التبیان) کی ابتداء ہی میں اس بات کی وضاحت کی ہے نیز اپنے استاد علم الہدی سید مرتضیٰ کا قول ان کے مکمل استدلال کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ معروف مفسّر شیخ طبرسی نے بھی اپنی تفسیر(مجمع البیان)کے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور شیخ الفقہاء شیخ جعفر نے اپنی کتاب کشف الغطاء کے قرآن سے متعلق حصہ میں اس بات پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی فہرست میں جلیل القدر علامہ شہشہانی بھی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب العروۃ الوثقیٰ کے قرآن سے متعلق حصہ میں عدم تحریف کے قول کی نسبت تمام مجتہدین کی جانب دی ہے۔ مشہور محدث مولیٰ محسن القاسانی نے اپنی دو کتابوں میں اور شیخ محمد جواد بلاغی نے اپنی تفسیر (آلاء الرحمٰن) کے مقدمہ میں قرآن کے تحریف سے محفوظ ہونے کی تصریح کی ہے۔ [6]

لیکن جہاں تک مصحف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی گفتگو ہے تو واضح ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہما السلام نے ایک کتاب جمع کی تھی جو قرآن کریم کی شرح و تفسیر پر مشتمل تھی نیز اس میں مواعظ و حِکَم واقعات و احکام مرقوم تھے۔ یہ کتاب آپ کی زوجہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس موجود تھی۔ اس وجہ سے آپ کے فرزندوں کے درمیان یہ کتاب مصحف فاطمہ زہرا علیہا السلام کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اسی طرح فرائض، میراث اور دیّات کے سلسلہ میں جو کچھ نبی اکرم ﷺ سے حاصل کیا تھا اسے بھی آپ نے ایک کتاب کی شکل دی تھی۔ مگر یہ دونوں کتابیں قطعاً قرآن مجید کا حصہ نہیں تھیں۔ 

امام بخاري[7] ومسلم[8] نے ایک سے زیادہ مقامات پر اس صحیفہ کا ذکر کیا ہے۔ ان دونوں نے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے :

«ما عندنا كتاب نقرؤه إلّا كتاب الله تعالى غير هذه الصحيفة، قال: فأخرجها فإذا فيها أشياء من الجراحات (الديات)... الحديث»[9].

"قرآن مجید کے بعد ہمارے پاس اس صحیفہ کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں۔ راوی کہتا ہے کہ امام نے اسکے بعد وہ کتاب نکالی جس میں دیات وغیرہ کی گفتگو تھی۔ "

دین اور قرآن مجید کے تئیں ہر غیرتمند مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کے تمام شبہات و اعتراضات کے ذریعہ اپنے رب کی کتاب کا دفاع کرے۔


[1] ۔ حجر/۹

[2]. مسلم بن حجاج نیشاپوری، صحيح مسلم، _ باب لو أن لابن آدم واديان لابتغى ثالثاً- ج 2، ص 726­ ؛ دار إحياء التراث العربي،بيروت،نیز رجوع کیجئے: دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة، ج 7، ص 156.

[3]نعمانی، اللباب في علم الكتاب، ج 2، ص 278؛ شنقيطي،أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن، ج 2، ص 451؛ روح المعاني في تفسير القرآن والسبع المثاني، ج 2، ص 463؛ مناهل العرفان في علوم القرآن، ج 2، ص 196؛ معالم السنن، شرح سنن أبي داود، ج 3، ص188. 

واضح رہے کہ تلاوت کے منسوخ ہونے کا مطلب آیات قرآنیہ کے بعض حصوں کا دو جلدوں کے درمیان موجود قرآن مجید میں سے نکل جانا ہے۔ یہ عام معنیٰ میں تحریف تو نہیں ہے مگر اس سے بہت نزدیک ہے۔ ایک مسلمان کے لئے ایسا عقیدہ رکھنا صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ علمائے امامیہ اس کے قائل نہیں ہیں۔

[4].خوئي، سيّد أبوالقاسم، البيان في تفسير القرآن، ص 200.

[5]. اعتقادات الإماميّة، ص 82.

[6] . البيان في تفسير القرآن، ص 165.

[7].صحيح بخاري، ج 9، ص 90.

[8]. صحيح مسلم، ج 2، ص 992.

[9]. رجوع کیجئے، صحيح مسلم (كتاب الفرائض 4 / 49 وباب فضل المدينة كتاب الحجّ ج/1 50).

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
2
شیئر کیجئے