بینک سے قرض لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب 

سلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

اگر بینک کا سرمایہ مسلمانوں کا ہو تو

اگر حکومتی بینک ہو تو اگر شرعی طریقہ سے معاملہ ہوا ہو جیسے (مضاربہ یا قسطوں پر خرید کریں ) تو ضروری ہے کہ اس معاہدے کے مطابق عمل کیا جائے، اور اگر شرعی معاملہ نہ ہو تو آپ مجہول المالک کی نیت سے لیں اور پھر حضرت آیت اللہ کی جانب سے اپنے لیے قرضے کی نیت سے قبول کرلیں اور پھر اس قرضے کو اسی جگہ استعمال کیا جائے جس کے لیے قرضہ لیا گیا ہو ۔

اور اگر بینک پرائیوٹ ہو تو اگر شرعی طریقہ سے معاملہ ہوا ہو جیسے (مضاربہ یا قسطوں پر خرید کریں ) تو ضروری ہے کہ اس معاہدے کے مطابق عمل کیا جائے اور اگر شرعی معاملہ نہ ہو تو اس صورت میں پرائیوٹ بینک سے (سود کے ساتھ ) قرض لینا جایز نہیں ۔

لیکن اگر بینک یا ادارہ جو غیر مسلم (non muslim ) سرمایہ سے تشکیل پایا ہو 

تو سود کی شرط کے ساتھ قرض لینا جایز نہیں لیکن اس سے بچنے کی خاطر یہ کیا جاسکتا ہے کہ قرض کی نیت کے بغیر یہ رقم بینک سے لی جائے اور حاکم شرع کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ، گر چہ یہ جانتے ہوں کہ بعد میں اس کی اصل رقم اور اضافی رقم ادا کرنا پڑے گی۔

حوالہ:

https://www.sistani.org/urdu/qa/01745/


اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے