پوسٹ نمبر : 723 215 ملاحظات

کعبہ معظمہ کے گرد تعمیر دو منزلہ پل پر کیا نماز صحیح ہے؟

حالت اختیار یا حالت اضطرار میں طواف کرنا درست ہے؟اور اس صورت میں نماز طواف کا حکم کیا ہوگا؟

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ
اس سلسلہ میں تمام مراجع کرام کا فتوی یہ ے کہ اگر پل کی اونچائی خانہ کعبہ کی چھت سے زیادہ نہیں ہے تو طواف صحیح ہے اور اگر زیادہ ہے تو صحیح نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ طواف اور نماز طواف جو مقام ابراہیم علیہ السلام کو سامنے پڑھی جاتی ہے، کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہئے۔ لہذا اگر مکلف کے لیے یہ ممکن نہ ہو کہ وہ واجب طواف اور اسکی نماز کے درمیان موالات کو باقی رکھ سکے (کیونکہ طواف کہ بعدنماز طواف کے لیے دوسری منزل سے مسجد کہ صحن تک آنے میں کافی فاصلہ آجائے گا جو کہ دس منٹ کے معمولی فاصلہ کی طرح نہیں ہوگا) تو اس صورت میں پل کہ اوپر سے کیا گیا طواف کافی نہیں ہوگا


آیت الله خامنه ای و دیگران

استفتائات آیۃ اللہ سیستانی۔ سوال و جواب » حج ۔ طواف۔  ۱

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
2
شیئر کیجئے