پوسٹ نمبر : 222 7 ملاحظات

کیا عورت اجتہاد کے درجہ تک پہنچ سکتی ہے

slam

kaise hain

kia awrat islami oloom ko hasil kar ke ijtehad ke darje tak phuch sakti hai awr kia phir wske liye taqleed haram ho jaye gi ? 

کیا عورت اسلامی علوم کو حاصل کر کے اجتہاد کے درجہ تک پہنچ سکتی ہے اور کیا پھر اس کے لئے تقلید حرام ہو جائے گی؟

جواب :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وعلیکم السلام

جی ہاں دین اسلام میں علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر واجب ہے، رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : طَلَبُ العِلمِ فَريضَةٌ عَلى كُلِّ مُسلِمٍ و مُسلِمَةٍ ۔ 

ميزان الحكمه ، محمد محمدی ری شهری ، ج 8 ، ص28

اس بنا پر عورت بھی درجہ اجتہاد پر فائز ہو سکتی ہے ۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے اس کی تقلید نہیں کر سکتے، کیونکہ مرجع تقلید کے لئے مرد ہونا شرط ہے ۔

مجتہدہ خاتون کسی اور کی بھی تقلید نہیں کر سکتی ، کیونکہ اکثر مراجع کے نزدیک ایک مجتہد دوسرے مجتہد کی تقلید نہیں کر سکتا مگر یہ کہ وہ مجتہد متجزی ہو یعنی کچھ مسائل میں مجتہد ہو، باقی میں نہیں ، ایسے میں جس موضوع میں وہ مجتہد ہے اس میں دوسرے کی تقلید نہیں کرسکتا ہے لیکن دیگر مسائل میں وہ دوسرے مرجع کی تقلید کرسکتا ہے ۔

حوالے :

استفتا جدید امام خمینی ج١,س٥۴ ، 

فاضل: جامع المسائل، ج 1، تقلید، س 8؛ 

سیستانی: المسائل المنتخبة، التقلید، م 1؛ 

مکارم: استفتائات، ج 1، س 28؛

صافی: هدایة السائل، ج 1، التقلید، س 13؛

نوری: استفتائات، ج 1، س 10.

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے