پوسٹ نمبر : 445 2 ملاحظات

عصر حاضر میں فعال لوگوں کا علم دین حاصل کرنا واجب عینی ہے یا کفائی؟

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپکا سوال واضح نہیں  ہے ۔ فعال افراد سے آپکی کیا مراد ہے اور علم دین   کی تعریف آپکی نظر میں کیا ہے، واضح نہیں ہے۔ بہر حال مندرجہ ذیل مسائل پر توجہ فرمائیں:
مسئلہ ۱ ) ہر مسلمان کے لئے اصول دین کو از روئے بصیرت جاننا ضروری ہے کیونکہ اصول دین میں کسی طور پر بھی تقلید نہیں کی جاسکتی یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اصول دین میں کسی کی بات صرف اس وجہ سے مانے کہ وہ ان اصول کو جانتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر یقین رکھتا ہو اور اس کا اظہار کرتا ہو اگرچہ یہ اظہار از روئے بصیرت نہ ہو تب بھی وہ مسلمان اور مومن ہے۔ لہذا اس مسلمان پر ایمان اور اسلام کے تمام احکام جاری ہوں گے لیکن "مسلمات دین" کو چھوڑ کر باقی دینی احکامات میں ضروری ہے کہ انسان یا تو خود مجہتد ہو یعنی احکام کو دلیل کے ذریعے حاصل کرے یا کسی مجہتد کی تقلید کرے یا از راہ احتیاط اپنا فریضہ یوں ادا کرے کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس نے اپنی شرعی ذمہ دار پوری کردی ہے۔ مثلا اگر چند مجتہد کسی عمل کو حرام قرار دیں اور چند دوسرے کہیں کہ حرام نہیں ہے تو اس عمل سے باز رہے اور اگر بعض مجتہد کسی عمل کو واجب اور بعض مستجب گردانیں تو اسے بجالائے۔ لہذا جو اشخاص نہ تو مجتہد ہوں اور نہ ہی احتیاط پر عمل پیرا ہوسکیں اور ان کے لئے واجب ہے کہ مجتہد کی تقلید کریں۔
۱۱۔ جو مسائل انسان کو اکثر پیش آتے رہتے ہیں ان کو یاد کر لینا واجب ہے۔
http://www.leader.ir/fa/book/2
https://www.sistani.org/urdu/book/61/3332/
مندرجہ بالا مسائل کی روشنی میں اصول دین سے متعلق علم اور فروع دین میں اکثر پیش آنے والے مسائل کا سیکھنا واجب عینی ہے۔

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے