پوسٹ نمبر : 547 6 ملاحظات

کیا فتوے کو نہ ماننے سے کوئی شیعیت سے خارج ہو جاتا ہے ؟

سلام علیکم    

کیا کسی مجتھد کے کسی فتوے کو نہ ماننے سے کوئی  شیعیت سے خارج ہوجاتا یے ؟؟؟   صرف سوال ہے  اس کا کوئی پس منظر نہیں ہے۔۔۔  مھربانی ہوگی  جواب عنایت فرمائیں

جواب :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ 

شیعیت سے خارج ہونے کا معیار یہ ہے :

۱۔ اصول دین کا انکار : 

جیسے توحید ، عدل ، نبوت ، امامت ، قیامت میں سے کسی کا انکار

۲۔ ضروریات دین کا انکار :

جیسے اصل نماز کا انکار ۔ کیوں کہ ضروریات دین کے انکار کا لازمہ اصل میں اصول دین کا ہی انکار ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کہے کہ میں نماز کو نہیں مانتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں توحید در تشریع کو نہیں مانتا ، یا رسول کی عصمت کو نہیں مانتا گویا رسول نے نماز کے وجوب کو بیان کرنے میں نعوذباللہ غلطی کی ہے ۔ 

خداوند عالم سورہ بقرہ آیت 85 میں ارشاد فرما رہا ہے : اَفَتُؤمِنونَ بِبَعض الْکِتابِ وَ تَکْفُرونَ بِبَعضٍ فما جَزاء مَنْ یَفْعَلْ ذلِکَ مِنْکُمْ اِلاّخِزْیٌ فِی الْحَیوةِ الدُّنیا وَ یَوْمَ الْقِیامَةِ یُردُّونَ اِلَی اَشَدِّ الْعَذابْ ۔

تو کیا تم کتاب کے بعض حصے پر تو ایمان لائے ہو اور دوسرے بعض حصے پر کفر اختیار کیا ہوا ہے ، تم میں سے جو ایسا کریگا تو اس کے لئے دنیاوی زندگی میں ذلت ہے اور روز قیامت شدیدترین عذاب میں ڈھکیل دیا جائے گا ۔

ضروریات دین کے انکار کی مزید دقیق وضاحت کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر کوئی خدا نہ خواستہ نماز نہیں پڑھتا لیکن نماز کا انکار بھی نہیں کرتا تو وہ گنہگار ضرور ہے لیکن دین سے اور شیعیت سے خارج نہیں ہے ۔ البتہ بعض روایات میں تارک نماز کو کافر کہا گیا ہے ، امام صادق فرماتے ہیں : ان تارک الفریضه کافر ، واجبات کو چھوڑنے والا کافر ہے ۔ لیکن دیگر روایات سے اس کی وضاحت یوں مل جاتی ہے اگر کوئی مستقل طور سے عمدا نماز نہیں پڑھتا وہ کافر ہے ، نہ کہ وہ شخص جس کی نماز کبھی کبھی بھولے یا مثلا نیند کی وجہ سے قضا ہو جاتی ہے ، رسول خدا فرماتے ہیں : من ترک الصلاة متعمداً فقد کفر، جو عمدا نماز کو چھوڑے وہ کافر ہو گیا ۔

اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب اس امر پر متوقف ہے کہ انکار کرنے والے کا انکار کس نوعیت کا ہے ، اگر بس یونہی نہیں مانتا کہ جس کا لازمہ انکار اصل مرجعیت اور انکار ولایت فقیہ نہیں ، تو یہ ایک معصیت ضرور ہے لیکن کوئی بھی اس معصیت کی بناپر شیعیت سے خارج نہیں ہوتا ، لیکن اگر اس انکار کا لازمہ اصل مرجعیت اور اصل ولایت فقیہ کا انکار ہے تو چونکہ اصل مرجعیت اور اصل ولایت فقیہ ، امامت ائمہ طاہرین اور ان کی ولایت کے لوازمات میں سے ہے اور اس معنی میں ضروریات دین میں سے ہے لہذا اس طرح کا انکار کرنے والا علی القاعدہ شیعیت سے خارج ہوگا ۔ کیونکہ مقبولہ ابن حنظلہ کی روایت میں صاف طور سے امام صادق علیہ السلام فقھا کے سلسلہ میں فرماتے : فإنّی قَدْ جَعَلْتُهُ عَلَیْکُمْ حاکِماً. فاذا حکم بحکمنا فلم یقبله منه فانما استخف بحکم الله و علینا رد و الراد علینا الراد علی الله و هو علی حد الشرک بالله ۔ 

وسائل الشیعه، حر العاملی، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ج۱۸، ص۹۹

میں نے ان کو تم پر حاکم بنایا ھے اگر وہ کوئی حکم بیان کریں اور کوئی اسے قبول نہ کرے تو گویا اس نے حکم خدا کی تحقیر کی ھے اور ھمارے حکم کو رد کیا ھے۔ اور ھمارے حکم کو رد کرنے والا خدا کو ٹھکرانے والا ھے اور یہ شرک باللہ کی حد میں ھے۔

تو نتیجہ یہ نکلا کہ مقبولہ ابن حنظلہ کی روایت کی رو سے اصل مرجعیت اور اصل ولایت فقیہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کی امامت اور ولایت کے لوازمات میں سے ہے ، لہذا اصل مرجعیت اور اصل ولایت فقیہ کا انکار ائمہ طاہرین علیہم السلام کی امامت اور ولایت کا انکار ہے ، اس لحاظ سے اصل مرجعیت اور ولایت فقیہ ضروریات دین میں سے ہے، مرجعیت کا انکار ضروریات دین کا انکار ہے،  اگر کوئی اس ملازمہ کے التفات کے ساتھ مرجعیت اور ولایت فقیہ کا انکار کرے تو علی القاعدہ شیعیت سے خارج ہے مگر یہ کہ اس ملازمہ کی طرف ملتفت ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں شیعیت سے خارج نہیں ہوگا ۔ شاید اسی صورت کو مد نظر رکھتے ہوئے رہبر معظم کا فتوی ہے کہ ولایت فقیہ کا انکار کرنے والا نہ مرتد ہے نہ کافر ۔ بلکہ وہ مسلمان ہے ۔  Khamenei.ir

اگر چہ اس فتوے میں اسلام سے خارج نہ ہونے کی صراحت ہے اور شیعیت سے خروج یا عدم خروج کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔ 

و اللہ اعلم 

والسلام 

 مزید مطالعہ کے لئے :

اصول کافی جلد 1، کتاب العقل۔ باب 22(اختلاف حدیث)۔ حدیث 10 ص 120
 
شیخ صدوق ، من لایحضرہ الفقیہ، جلد 2 ص 14، حدیث 3232، 3233 
 
احتجاج طبرسی جلد 2، ص 152 
 
حر عاملی،وسائل الشیعہ۔  جلد 18، کتاب القضاء۔ ابواب الصفات القاضی ، باب 11، حدیث ا، ص 329

مولى احمد بن محمد مهدى‌ نراقى ، رسائل و مسائل‌، ج 2، ص 336 - 338،قم، كنگره نراقيين ملا مهدى و ملا احمد، 1422ق

Hawzah.net

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے