کیا کاروبار اور پیشے کے اوزاروں کا خمس ایک بار ادا کردینا کافی ہے ؟

 کیا کاروبار اور پیشے کے اوزاروں کا خمس ایک بار ادا کردینا کافی ہے یا ضروری ہے کہ ہر سال ان کی بڑھنے والی قیمت کا خمس ادا کیا جائے؟

جواب

سلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ

ان کا خمس ادا کردینے کے بعد جب تک انہیں فروخت نہ کیا جائے ان پر خمس نہیں ہے اور فروخت کردینے کے بعد ان کی بڑھنے والی قیمت ﴿افراط زر کو منہا کرنے کے بعد﴾ فروخت والے سال کی آمدنی شمار ہوگی اور اگر خمس کی تاریخ تک زندگی کے اخراجات میں خرچ نہ ہو تو اس کا خمس دینا ہوگا۔

حوالہ: ویب سائٹ جدیداستفتائات ،حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی 

https://www.leader.ir/ur/content/25478

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے