پوسٹ نمبر : 481 4 ملاحظات

مجتہد اعلم کی شناخت کیسے کریں؟

مجتہدین کے اختلافی مسئلے میں اعلم کی طرف رجوع کرنے کا ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً سبھی مجتہدین کرام کی توضیح المسائل میں آیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اعلم کی شناخت کرنا بہت مشکل بلکہ شاید محال ہو کیونکہ ہر شخص یا گروہ اپنے مجتہد تقلید کو اعلم بتاتا ہے اوردوسرے کو نہیں ،سوال یہ ہے کہ قدیم کے کچھ مجتہدین کرام تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی حیات میں کیا بلکہ مرنے کے بعد بھی آج کے مجتہدین تقلید کے مقابلہ میں اعلم ہیں تو کیا ممکن ہے اس طرح کے مجتہدین کرام (رضوان اللہ علیھم ) جن کو اس دنیا سے گئے کافی زمانہ ہوگیا ہے آج کے زندہ مجتہدین ( جو بحث و مباحثہ اور درس وتدریس میں مشغول ہیں اور جدید علوم و فنون میں بھی دسترس رکھتے ہیں ) کے ہوتے ہوئے بھی گذشتہ مجتہدین اعلم ہوں؟

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپکا سوال دو حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ اعلم کی شناخت سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ مردہ مجتہد کی تقلید کرنے کے بارے میں۔
پہلے حصہ کے متعلق مجتہدین فرماتے ہیں:
مجتہد اور اعلم کی پہچان تین طریقوں سے ہوسکتی ہے۔
* (اول) ایک شخص کو جو خود صاحب علم ہو ذاتی طور پر یقین ہو اور مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
* (دوم) دو اشخاص جو عالم اور عادل ہوں نیز مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دو اور عالم اور عادل ان کی تردیدنہ کریں اور بظاہر کسی کا مجتہد یا اعلم ہونا ایک قابل اعتماد شخص کے قول سے بھی ثابت ہوجاتا ہے۔
* (سوم) کچھ اہل علم (اہل خبرہ) جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں اور ان کی تصدیق سے انسان مطمئن ہوجائے۔
لہذا اعلم کی شناخت عام مقلد کا کام نہیں ہے بلکہ اسکا صاحب علم ہونا اور مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھنا ضروری ہے۔ اگر وہ شناخت نہیں کر سکتا تو اہل خبرہ کی طرف رجوع کرے۔ اس میں ہر شخص یا گروہ کو نظریہ پیش کرنے یا جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسرا مسئلہ میت کی تقلید کرنے کا ہے ۔ اس بارے میں مجتیدین کا فتوی یہ ہے:
میت کی تقلید ایک لحاظ سے دو قسم پر ہے
۱۔ ابتدائی (یعنی اس مردہ مجتہد کی تقلید کرنا کہ جس کی زندگی میں اس کی تقلید نہ کی ہو )کہ جو احتیاط (واجب) کی بنیاد پر جائز نہیں ہے۔
۲۔ بقائی (یعنی اس مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہنا کہ جس کی زندگی میں اس کی تقلید کی ہو) کہ جو تمام مسائل میں حتی کہ جن پر ابھی تک مکلف نے عمل نہیں کیا جائز اور کافی ہے۔
لہذا مردہ مجتہد اگرچہ اپنے زمانے میں اعلم ہی کیوں نہ رہا ہو ابتدای طور پر اسکی تقلید نہیں کی جا سکتی۔ واللہ اعلم
رجوع کریں رسالہ آموزشی آیۃ اللہ خامنہ ای، جلد ۱، درس ۱ اور ۲
http://www.leader.ir

توضیح المسائل آیۃ اللہ سیستانی۔ تقلید کے مسائل
https://www.sistani.org

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے