پوسٹ نمبر : 358

اسلام میں بارات کی کیا حیثیت ہے ؟

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ
اسلام ایک ہمہ جہت  اور ہمہ گیر دین  ہے۔اس نے قیامت تک آنے والے تمام انسانوں  کی مشکلات کا حل پیش کیا ہے۔  البتہ  اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ  ہر مسئلہ کی تمام جزئیات بتائی ہیں ، بلکہ کچھ بنیادی اصول پیش کئے ہیں ؛ جزئی مسائل کو انکی طرف پلٹا کر انکا حل نکالا جاتاہے۔  اسلام بنیادی طور پر مندرجہ ذیل چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے:
۱۔ اصول ( عقاید)
۲۔ فروع( احکام)
۳۔ اخلاقیات ( آداب معاشرت)
مندرجہ بالا امورسے متعلق پیش آنے والے مسائل کے لئے اسلام نے چار منابع قرار دئے ہیں:
۱۔ قرآن
۲۔  سنت (قول، فعل اور تقریر معصومؑ)
۳۔ اجماع
۴۔عقل
اگر کسی مسئلہ کا حل قرآن اور سنت سے نہ ملے تو  علماء کے اجماع کی نوبت آتی ہے اور اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو خداوند عالم نے ہر انسان کو عقل سلیم دیکر بھیجا ہے  جسکو نبی باطن کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ معلوم کرنا کہ قرآن و سنت میں فلاں مسئلہ کا حل ہے یا نہیں اور اگر نہیں ہے تو قواعد کی روشنی میں انکا حل کیسے نکالا جائے،ہر کسی کا  کام نہیں۔ یہیں سے مجتہد کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ایک ایک مسئلہ کتنی زحمت اور عرق ریزی کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے، عام انسان اسکو سمجھنے سے قاصر ہیں۔اور پھر اس مسئلہ کو اپنی ذمہ داری پر لوگوں کے عمل کرنے کے لئے پیس کر دینا ،آسان کام نہیں ہے۔
البتہ ہر معاشرے میں کچھ رسومات  رائج ہوتی ہیں  جو ک اور معاشرے میں نہیں پائی جاتیں، اگر وہ رسومات اسلام کے بنیادی اصول اور احکام سے نہیں ٹکراتیں تو اسلام ان میں دخالت نہیں  کرتا۔  اسی لئے اسلام  نے زمانہ جاہلیت کی بعض رسموں کو نہ صرف یہ کہ ممنوع قرار نہیں دیا بلکہ ان پرعمل کرنے کی تاکید کی ۔ بطور  مثال  جاہلیت کے زمانے میں لوگ عہد و پیمان کے پابند ہوتے تھے اور عہد کی وفا کے لئے اپنی جان کی بازی بھی لگادیتے تھے۔ عرب کے زمانۂ جاہلیت میں امن و امان کے قیام کے لیے کیا جانے والا  حلف الفضول  نام کا معاہدہ  ایک ایسا ہی عہد تھا جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی شرکت کی تھی جب آپ کی عمر مبارک 20 سال تھی( البداية والنهاية - ج 2 ص 355)۔  اسی طرح میہمان نوازی (مقریزی، 1420 ق، ج1، ص46)،  خاص مہینوں (  حرام مہینے) کا احترام وغیرہ کو اسلام نے اہمیت دی  اور انکو باقی رکھا۔
بارات بھی ایک ایسی ہی رسم ہے جو بر صغیر سے مخصوص ہے  اور صدر اسلام میں اسکی نذیر نہیں پائی جاتی۔ لہذا اگر اس میں کوئی ایسا فعل انجام نہ پائے جو روح اسلام سے نہ ٹکراتا ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ لیکن افسوس! کہ ایسا نہیں ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں  داخل ہوگئی ہیں جو اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتی۔
 آج کل بارات کے نام سے ایک بڑی تعداد دلہن کے گھر جاتی ہے اور تعداد کا کم ہونا ذلت ورسوائی سمجھی جاتی ہے یہ طریقہ شرعاً قابل مذمت اور ناپسندیدہ ہے، نام ونمود اور اسراف سے بچتے ہوئے چند لوگ لڑکے کے ساتھ چلے جائیں اور نکاح میں شریک ہوجائیں اور پھر لڑکی کو رخصت کراکے ساتھ میں سب لوگ آجائیں تو اس میں مضائقہ نہیں، لڑکے والے کو بارات کی مروجہ شکل پر اصرار نہیں کرنا چاہیے ۔ لڑکے کے جو رشتہ دار باراتی کے عنوان سے ساتھ میں جاتے ہیں چونکہ وہ لڑکی والے کے میہمان ہوتے ہیں اس لئے اخلاقی طور پر انکے کھانے کا انتظام کرنا اچھی بات ہے لیکن لڑکے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صرف اتنے باراتی لیکر جائیں جنکے کھانے وغیرہ کا انتظام کرنے پر لڑکی کے والدین قادر اور دل سے راضی ہوں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے ارشاد فرمایا کہ شادی علی الاعلان کرو(کنز العمال . ح44532)
لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ لڑکے کے والدین اپنے تمام اعزا و اقارب کو لیکر لڑکی والے کے یہاں چڑھائی کر دیں۔ اپنے گھر مختصر ولیمہ کی دعوت کے ذریعہ اس استحباب پر عمل ہو جائےگا۔
ہمارے معاشرے میں اس رسم نے ایک لازمی رسم کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس میں نکاح کے لیۓ آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت انتہائی پر تکلف انداز میں کی جاتی ہے اور اس کو اپنی بیٹی کی آئندہ زندگی کی خوشیوں کا ضامن سمجھا جاتا ہے ۔ جتنی زیادہ آؤ بھگت باراتیوں کی ہو گی اتنا ہی ان کے اوپر لڑکی والوں کا رعب ہو گا ۔ اور اگر خدا نخواستہ  کوئی کمی رہ جاتی ہےتو لڑکی کے والدین کا جینا بھاری ہو جاتا ہے اور لڑکی کو پوری زندگی طعنے سننے پڑتے ہیں ۔  حالانکہ اگر لڑکے والے اپنی مرضی سے بارات لیکر آتے ہے تو شرعی طور پر انکے کھانے کا انتظام خود لڑکے والوں کے ذمہ ہے اور اگر لڑکی کے والدین شرما  حضوری اور لڑکی کے مستقبل کی خاطر کھانے  کا انتظام کرتے ہیں تو باراتیوں کے لئے وہ کھانا شبہ ناک  اور قابل اشکال ہے۔ اور  ایسے میہمانوں کے لئے اما م علی علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں ارشاد فرمایا : اگر ایسا شخص  کہ جو بغیر بلائے کسی دسترخوان پر حاضر ہوگیا ہو، ذلیل و رسوا ہو جائے تو اپنے علاوہ کسی اور کی ملامت نہ کرے۔ (نصایح صفحۀ 281)
اسکے علاوہ بعض جگہوں پر اس میں پے پردگی،گانا بجانا اور دوسری اسلام مخالف رسومات بھی شامل ہیں جنکی وجہ سے اسکو شرعی لحاظ سے جایز قرار دینا مشکل ہوجاتا ہے۔
صدراسلام  میں لوگ رشتہ طے  ہونے کےبعد  جب نکاح  کاپروگرام بنتا  تو تاریخ  معین کرکے لڑکے والے،گھر کے چند افراد کو ساتھ لے کر لڑکی  والوں  کے گھر جاتے اورنکاح پڑھ کر  لڑکی کو اپنے گھر لے آتے ۔ اس کے لیے  نہ بارات کا کوئی سلسلہ تھا اور نہ جہیز ،بری اور  زیورات کا  اور نہ دیگر تکلفات ۔ اس سے نہ لڑکے والوں پر کوئی  بوجھ پڑتا اور نہ لڑکی والوں پر ۔دونو ہی سکھی رہتے۔ یہی اسلامی  تعلیمات اور اسوۂ رسول کا تقاضا  بھی ہے۔
لہذا !  اگرچہ صدراسلام میں، موجودہ شکل میں رائج بارات کی نذیر  نہیں ہے لیکن چونکہ اسلام نے  مختلف معاشروں کی تمام رسموں کو باطل قرار نہیں دیا ہے ، یہ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ شریعت کے خلاف کوئی چیز ہے۔ ہاں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اسکے اندر اسلام مخالف چیزوں کی آمیزش نہ ہو۔ واللہ اعلم۔

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
1
شیئر کیجئے