شراب کی مذمت میں معصومین علیہم السلام کے ارشادات بیان فرمائیں؟

جواب:

سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

قیل لامیر المومنین ؑ انک تزعم ان شرب الخمر اشد من الزنا و السرقة ؟ فقال: نعم ، ان صاحب الزنا لعله لا یعدوه الى غیره و ان شارب الخمر اذا شرب الخمر زنى و سرق و قتل النفس التى حرم الله عزوجل و ترک الصلوة۔{۱}

حضرت امام علیؑ سے پوچھا گیا کہ آپؑ کے خیال میں شراب نوشی زنا سے بھی بڑا جرم ہے ؟ آپ ؑنے فرمایا:

ہاں!ممکن ہے زنا کے اثرات صرف زانی تک محدود رہیں لیکن شرابی زنا بھی کرتا ہے اور چوری بھی اور وہ بے گناہ کو قتل بھی کرے گا اور نماز بھی ترک کرے گا۔

وعن على بن إبراهيم، عن أبيه، عن عمرو بن عثمان، عن أحمد بن إسماعيل الكاتب، عن أبيه، قال: أقبل أبو جعفر ؑ في المسجد الحرام فنظر إليه قوم من قريش، (فقالوا:) هذا إله أهل العراق، فقال بعضهم: لو بعثتم إليه (بعضكم فسأله)، فأتاه شاب منهم فقال: ياعم! ما أكبر الكبائر؟ قال: شرب الخمر، فأتاهم فأخبرهم، فقالوا له: عد إليه فعاد إليه، فقال له: ألم أقل لك يا ابن أخ شرب الخمر؟ فأتاهم، فأخبرهم، فقالوا له: عد إليه، فلم يزالوا به حتى عاد إليه، فقال له: ألم أقل لك: شرب الخمر؟! إن شرب الخمر يدخل صاحبه في الزنا والسرقة وقتل النفس التي حرم الله وفي الشرك بالله، وأفاعيل الخمر تعلو على كل ذنب، كما (تعلو شجرتها على كل شجرة۔{۲}

احمد بن اسماعیل کا تب نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام مسجد الحرام میں تشریف لے آئے تو قریش کے چند لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ یہ بزرگوار کون ہیں؟انہیں بتایا گیا کہ آپؑ اہل عراق کے امام ہیں،یہ سن کر وہ کہنے لگے ہم کسی کو ان کے پاس بھیجیں جو ان سے دینی مسئلہ پوچھ کر آئے،یہ سن کر ان میں سے ایک نوجوان اٹھا اور امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا کہ چچا! بتائیے سب سےبڑا گناہ کون سا ہے؟آپؑ نے فرمایا:شراب نوشی سب سے بڑا گناہ ہے۔

بھتیجے! کیا میں نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے کیونکہ شراب نوشی،شرابی کو زنا،چوری،بے گناہ کے قتل اور شرک میں مبتلا کردیتی ہے اور شراب نوشی کی کارکردگی معصیت میں تمام گناہوں سے اتنی بڑھ جاتی ہے جتنی انگور کی بیل جو تمام درختوں کے اوپر چڑھ جاتی ہے۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِؑ أنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهﷺ:

لَا يَنَالُ شَفَاعَتِي مَنِ اسْتَخَفَّ بِصَلَاتِهِ ، وَ لَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ لَا وَاللَّهِ، لَا يَنَالُ شَفَاعَتِي مَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ لَا وَاللَّهِ{۳}

امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا:

جو شخص اپنی نماز کو حقیر سمجھے وہ میری شفاعت کا حقدار نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ میرے پاس حوض کوثر پر آسکے گا،خدا کی قسم! میری شفاعت اسے ہرگز نصیب نہ ہوگی جو نشہ آور چیز پئے اورخدا کی قسم! وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی نہیں آسکے گا۔

سال زندیق ابا عبداللہ لم حرم اللہ الخمرولا لذۃ افضل منھا قال: (حرمها لأنها أم الخبائث ورأس کل شر، یأتی على شاربها ساعة یسلب لبه فلا یعرف ربه ولا یترک معصیة إلا رکبها ولا یترک حرمة إلا انتهکها ولا رحماً ماسة إلا قطعها ولا فاحشة إلا أتاها، والسکران زمامه بید الشیطان إن أمره أن یسجد للأوثان سجد، وینقاد حیثما قاده۔{۴}

ایک ملحد نے امام جعفرصادقؑ سے پوچھا :اللہ نے شراب کیوں حرام کی حالانکہ شراب سے مزیدار کوئی چیز ہےہی نہیں؟ امامؑ نے فرمایا:اللہ نے شراب اس لیے حرام کی ہے کہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے،کیا یہ تمام برائیوں کی پیش خیمہ نہیں ہے؟شرابی پر ایک لمحہ ایسا آتاہے کہ اس پر مستی چھا جاتی ہے جس سے اس کی عقل مائوف ہوجاتی ہے ،وہ اپنے رب کو بھی نہیں پہنچانتا اور ہر طرح کی برائی کا ارتکاب کرتا ہےاور ہر طرح کی حرمت کو پامال کرتا ہے اور ہر صلبی و قریبی تعلق کو توڑ دیتا ہے اور ہر قسم کا برا کام انجام دیتا ہے اور نشے میں دھت شخص کی باگ ڈور شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے،اگر شیطان اسے بت پرستی کا حکم دے تو وہ بتوں کو سجدہ کرتا ہے اور وہیں جاتا ہے جہاں اسے شیطان ہانک کر لے جائے۔

عن علی بن زید قال:

حضرت ابا عبداللہ علیہ السلام ورجل یسالہ عن شارب الخمر اتقبل لہ صلوۃ فقال ابو عبداللہ علیہ السلام۔

لاتقبل صلاۃ شارب المسکر اربعین یوما الا ان یتوب قال لہ الرجل فان مات من یومہ وساعتہ قال تقبل توبتہ و صلاتہ اذا تاب وھو یعقل فاما ان یکون فی سکرہ فما یعبا بتوبتہ۔{۵}

علی بن زید کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آپ ؑسے پوچھا:کیاشرابی کی نماز قبول ہوتی ہے؟امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: نشہ کرنے والے کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی،ہاں اگر توبہ کرلے تو اور بات ہے،اس شخص نے کہا:اگر شرابی اسی دن اور اسی وقت مرجائے(تو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟)امامؑ نے فرمایا:ہاں!اس کی توبہ اور نماز دونوں قبول ہوں گی لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے توبہ ہوش وحواس میں کی ہو،اگر مدہوشی میں توبہ کی ہوتو اس کی توبہ قابل قبول نہیں ہے۔

 عن جعفر بن محمد علیہ السلام انہ قال :

حرمت الجنۃ علی ثلاثۃ مدمن الخمر و عابد وثن وعدو ال محمد ومن شرب الخمر فمات بعد ما شربھا باربعین یوما لقی اللہ کعابد وثن۔{۶}

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:

جنت تین لوگوں پر حرام ہے:جسے شراب پینے کی عادت ہو ،بت پرست پر اور دشمن آل محمدؐ پر، جس نے شراب پی اور شراب پینے کے بعد چالیس دن کے اندر مرگیا وہ خدا کے سامنے بت پرست کی حیثیت سے حاضر ہوگا۔

(حوالہ جات)

۱۔کافی ج۶،ص۴۰۳۱

۲۔بحارالانوار ج۴۶،ص۳۵۸۲۔

۳۔کافی ج۶،ص۴۰۰۳

۴۔بحارالانوار ج۱۰،ص۱۷۹

۵۔بحارالانوار ج۶۳ص۴۸۸

۶۔بحارالانوار ج۶۳،ص۴۹۴


اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
3
شیئر کیجئے