پوسٹ نمبر : 256 19 ملاحظات

کیا شریعت کو جاننے کے لئے تقلید ضروری ہے ؟

احکام الہی یعنی شریعت کو حاصل کرنے ، جاننے اور سمجھنے کے لئے آج ہمارا فریضہ کیا ہے ؟ کیا شریعت کو جاننے کے لئے تقلید ضروری ہے ؟ کیا تقلید کے بغیر شریعت کو سمجھا نہیں جا سکتا ؟

مختصر جواب :

شریعت کو جاننے کے تین طریقے ہیں :

۱) یا مصادر شریعت سے استنباط کرکے حکم خدا خود حاصل کرے ، یعنی یا خود مجتہد بن جائے ۔

۲) یا تقلید کرلے ۔

۳) یا نہیں تو احتیاط پر عمل کر لے ۔

تفصیلی جواب :

احکام الہی یعنی شریعت کو اس کے بنیادی منابع و مصادر یعنی سورس سے حاصل کیا جا سکتا ہے جو کہ سب  سےاہم سورس خدا کی کتاب قرآن اور معصومین علیہم السلام کی سنت ہے ، البتہ عقل یقینی اور اجماع کاشف بھی شریعت کے سورس ہیں ۔ 

تو شریعت کے مصادر چار ہیں :

۱۔ کتاب : یعنی قرآن کریم 

سندا : قطعی الصدور ہے، یعنی اس میں کوئی شک و شبھہ نہیں ہے کہ پورا مکمل قرآن اللہ کی طرف سے ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی اور تحریف واقع نہیں ہوئی ہے ۔ اور اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

دلالتا : یعنی اس کے معنی و مفہوم کو صحیح سے سمجھنے کے لئے اس کے محکم و متشابہ ، ناسخ و منسوخ و غیرہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کے لئے خاص علوم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ اس کو سمجھنے میں اگر کوئی غلطی واقع ہوئی تو قرآن سمجھ میں نہیں آئے گا اور اس کی دلالت کو لیکر اختلاف ہی اختلاف ہوگا ۔

۲۔ سنت : یعنی معصومین علیہم السلام کے قول ، فعل اور تقریر ۔ 

سندا : ظنی الصدور ہے، یعنی اسے علم رجال اور علم درایہ کے معیاروں پر پرکھ کے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ کیا یہ حدیث واقعی معصوم سے صادر ہوئی ہے یا نہیں ۔ اور کوئی حدیث ان معیاروں پر کھری نہ ہو تو اسے معصوم علیہ السلام کی طرف نسبت دینا بھی غلط ہے ، کیونکہ حدیثوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جو حقیقت میں معصومین علیہم السلام کی طرف سے نہیں ہیں ، بلکہ دوسروں نے انہیں گڑھ لیا ہے ۔ اسی لئے اس سلسلہ میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے ۔ حدیثوں کی سند کو پرکھنے کے لئے خاص علوم اور خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

دلالتا : یعنی اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لئے بہت سے علوم جیسے علوم عربیہ میں صرف ، نحو، لغت ، اشتقاق، معانی، بیان، بلاغت وغیرہ اسی طرح سے منطق و اصول جیسے کئی اور علوم کی ضرورت پڑتی ہے ؛ تب جاکے حدیث سے ایک حکم حاصل کیا جا سکتاہے ۔

۳۔ عقل   یقینی:

عقل کے نتائج یا یقینی ہیں یا ظنی۔ ظنی عقل کا کوئی بھروسہ نہیں ، اسی لئے ظنی عقل معتبر نہیں ہے ، اور اسی لئے قیاس ہمارے یہاں قابل قبول نہیں ہے، لیکن عقل کے وہ نتائج جو یقینی ہیں جیسے بدیہیات ، اولیات ، مسلمات،صدق ریاضی . . . یہ سب معتبر ہیں ۔البتہ عقل کے ظنی اور یقینی نتائج کے فرق کو صحیح سے پرکھ لینا ، یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ، اس کے لئے منطق و فلسفہ و اصول جیسے فنی  علوم پر مہارت کے ساتھ ساتھ ایک خاص ملکہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کافی فکری ممارست سے حاصل ہوتی ہے ۔

۴۔ اجماع  کاشف:

اجماع یعنی کسی حکم پر تمام فقہا کا اتفاق ،حالانکہ مکتب اہل بیت میں محض عام اجماع اس بات کی دلیل نہیں کہ حکم خدا بھی یہی ہے جس پر لوگوں نے اتفاق کر لیا ہے ، مگر چونکہ ایک خاص دور میں مکتب تشیع پر ظلم و ستم کی بنا پر ہماری بہت سی کتابوں اور علمی اثاثہ کو ضایع کر دیا گیا ، جس کی بناپر شیخ الطائفہ شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے حوزہ علمیہ کو نجف  اشرف میں منتقل کیا تا کہ علمی اثاثوں کو اس طرح ضایع ہونے سے بچایا جا سکے ، اس بناپر اگر شیخ طوسی سے پہلے کے فقہا کسی حکم میں متفق ہوں اگرچہ اس حکم کی دلیل روایت کی صورت میں ہمارے پاس نہ بھی  ہولیکن ان علما کے اجماع سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ضرور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی روایت رہی ہو گی جو کہ ضایع ہو گئی ہے ۔ ایسے اجماع کو ، اجماع کاشف کہتے ہیں جس کی بازگشت سنت کی ہی طرف ہے ۔ تو نتیجہ یہ ہوا کہ مطلق اجماع ہمارے یہاں معتبر نہیں ، بلکہ صرف اجماع کاشف معتبر ہے ۔ اب اجماع کاشف اور غیر کاشف کو پرکھنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لئے ابتدا سے لکھی ہوئی تمام کتابوں کا وسیع تتبع چاہئے . . . 

نتیجہ :

شریعت کے معتبر مصادر سے حکم خدا کو  استنباط کر کے نکالنے کے لئے جن جن مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے انہیں ایک لفظ میں کہا جائے تو وہ اجتہاد ہے ۔

لہذا حکم خدا خوداگر حاصل کرنا ہے تو مجتہد بننا پڑے گا ۔جیسے مرض کا علاج خود کرنا ہے تو ڈاکٹر بننا پڑے گا ، خود عمارت کو تعمیر کرنا ہے تو انجینئر بننا پڑے گا ۔

اب اگر ہم خودمجتہد نہیں بن سکتے تو ایک ہی راستہ ہے کسی  مجتہد ہی سے پوچھ لیں ، جس طرح ہم ہر کام میں اس کے ماہر کی طرف رجوع کرتے ہیں ، علاج کے لئے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتے ہیں ، عدالتی کاروائی کے لئے وکیل کے پاس اور عمارت بنوانے کے لئے سول انجینئر کے پاس جاتے ہیں ، اسی عمل کو اصطلاح میں تقلید کہا جاتا ہے ۔ 

تو حکم خدا حاصل کرنا ہو تو یا خود مجتہد بنیں ، یا تقلید کر لیں ۔ البتہ اگر ہم مجتہد نہیں بن سکتے اور تقلید بھی نہیں کرنا چاہتے تو احتیاط پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے ، اگر چہ احتیاط پر عمل کرنا پہلی بات عملا بہت مشکل ہے ، اور دوسری بات یہ کہ اس میں بھی بہرحال مجتہدین کی طرف رجوع کرنا ہی پڑے گا ۔ تقلید میں تو ایک اعلم کا طرف رجوع کرنا کافی ہے ، مگر احتیاط کے لئے ایک نہیں بلکہ تمام مجتہدین کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔ 

بہر حال حکم خدا کو حاصل کرنے کے لئے اجتہاد ، تقلید ، یا احتیاط کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے ۔

حوالہ :

تمام مراجع کرام کی توضیح المسائل کا پہلا مسئلہ 

Leader.ir

Sistani.org

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے