میں کسی شخص کو کچھ سرمایہ دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ اس سے کام کرے اور ماہانہ ایک طے شدہ رقم مجھے دے۔ کیا یہ منافع لینا، سود کے حکم میں ہے؟



میں کسی شخص کو کچھ سرمایہ دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ اس سے کام کرے اور ماہانہ ایک طے شدہ رقم مجھے دے۔ کیا یہ منافع لینا، سود کے حکم میں ہے؟

جواب



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 اگر آپ نے یہ سرمایہ قرض کے طور پر دیا ہو اور یہ شرط لگائی ہو کہ قرض لینے والا، ہر مہینے ایک معینہ مقدار میں آپ کو منافع دے تو یہ سود والا قرض ہے اور حرام ہے لیکن اگر یہ وکالت کے طور پر ہو یعنی سرمایہ لینے والے کو آپ اپنا وکیل مطلق بنائیں تاکہ وہ آپ کے پیسے سے آپ کے لیے کام کرے اور منافع سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ آپ کو دے اور باقی خود رکھ لے تو اس میں کوئي حرج نہیں ہے۔

حوالہ : آیت اللہ خامنہ ای کی وبسایت       khamenei.ir
 
 

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے