پوسٹ نمبر : 492 5 ملاحظات

اعلم کے انتخاب میں غلطی ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟

ایسے شخص کے اعمال کا کیا حکم ہے جو پہلے کسی غیرمجتہد کو مجتہد سمجھتے ہوئے اس کی تقلید کرتا تھا, اب وہ اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوا ہے ؟

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام علیکم و رحمۃ اللہ
اگر اسکے اعمال احتیاط، واقع یا اس مجتہد کے فتاویٰ کے مطابق ہوں جس کی تقلید اس پر واجب تھی تو اعمال صحیح ہیں۔ اور اگر اسکے اعمال میں نقص پایا جاتا تھا تو اگر وہ نقص ایسے واجبات میں نہیں تھا جو رکنی ہوتے ہیں اور مکلف جاہل قاصر (جس نے مسئلہ جاننے میں کوتاہی نہ کی ہو) تھا تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ جاہل مقصر(جس نے مسئلہ جاننے میں کوتاہی کی ہو) تھا اور نقص ایسے اعمال میں تھا کہ جہل کی صورت میں  اگر ان میں غلطی ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا مثلا جہر و اخفات کا مسئلہ، تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ سوائے بعض موارد کے، کہ جنکا ذکر مفصل کتابوں میں ہے۔
استفتائات آیۃ اللہ خامنہ ای۔
سوال نمر ۷۔احتیاط، اجتہاد اور تقلید
http://www.leader 

توضیح المسائل فارسی آیۃ اللہ سیستانی
مسائل تقلید۔ مسئلہ نمبر  ۱۲
https://www.sistani.org

اگر آپ کو ہمارا جواب پسند آیا تو براہ کرم لائک کیجیئے
0
شیئر کیجئے