اگر نماز کا وقت آنے سے پہلے اگر کوئی طہارت کے لئے وضو کر لے تو کیا اس وضو سے نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
آیت اللہ سیستانی کا فتویٰ اس سلسلہ میں یہ ہے کہ وضو کا درست ہونا وقت کے ساتھ مشروط نہیں؛ نماز سے پہلے کیا جائے یا اس کے قریب، کچھ دیر پہلے ہو یا وقت داخل ہونے کے بعد—بس شرط یہ ہے کہ نیت اللہ کی قربت کی ہو۔ وجوب یا استحباب کی تعیین ضروری نہیں، اور اگر سہواً وجوب کی نیت ہو جائے اور بعد میں اس کا واجب ہونا ثابت ہو، تب بھی وضو معتبر اور صحیح شمار ہوتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق نماز کے وقت کے قریب ہونے کو عرف عام میں معیار سمجھا جاتا ہے، اگر وقت کے نزدیک ہونے پر نماز کی نیت سے وضو کر لیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
ساتھ ہی یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ایک مرتبہ وضو شرعی طور پر درست طریقے سے ہو جائے، تو جب تک وہ ٹوٹ نہ جائے، طہارت سے مشروط تمام عبادات اور اعمال اس وضو کے ساتھ بجا لانا درست اور جائز ہے۔