سجدہ سہو کب کیا جاتا ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. نمازی کو تین مواقع پر نماز کے سلام کے بعد دو سجدہ سہو (جس کی تفصیل ابھی بیان کی جائے گی) بجالانا چاہئیے۔
    ۱۔ نماز کے دوران سہواً کلام کرنا۔
    ۲۔ چار رکعتی نماز میں دوسرے سجدہ کے بعد شک کرے کہ چار رکعت پڑھی ہے یا پانچ رکعت۔
    ۳۔ تشہد بھول جائے۔
    دو مواقع پر بناء بر احتیاط واجب دو سجدہ سہو کرنا چاہئیے۔
    ۴۔ ایک سجدہ بھول جائے۔
    ۵۔ جہاں سلام نہیں پڑھنا چاہئیے وہاں بھولے سے سلام پڑھ لے۔
    لیکن آیت اللہ سیستانی کے نزدیک دو موقع پر سجدہ سہو واجب ہے
    ۱۔ چار رکعتی نماز میں شک کرے کہ چار پڑھی یا پانچ
    ۲۔اگر تشہد کے بھول جائے ۔
    اور تین مقام پر بنا پر احتیاط واجب سجدہ سہو انجام دے۔
    ۱۔ جب نماز میں بھولے سے سے کچھ کم یا زیاد ہو گیا ہو (ہاں جس کے کم و زیادہ کرنے سے نماز نہ باطل ہوتی ہو)
    ۲۔ نماز کے دوران سہواً کلام کرلیا ہو۔
    ۳۔ جہاں سلام نہیں پڑھنا چاہئیے وہاں بھولے سے سلام پڑھ لیا ہو۔
    آیت اللہ سیستانی کے نزدیک اگر ایک سجدہ بھول جائے تو بنا بر احتیاط مستحب دو سجدہ سہو انجام دے۔
    سجدہ سہو کا طریقہ: نماز کے فورا بعد سجدہ میں جائے اور پڑھنے بِسْمِ اللهِ و بالله، السلامُ عَليکَ ايّها النَّبى وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرکاتُه

جواب دیں۔

براؤز کریں۔