کن شہروں میں مسافر پوری نماز پڑھ سکتا ہے ؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
آیت اللہ سیستانی اور آیت اللہ خامنہ ای کے فتوے کے مطابق : مسافر مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد کوفہ میں، بلکہ مکۃ المکرمہ، مدینہ منورہ اور کوفہ کے پورے شہروں میں اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح حرم میں امام حسین علیہ السلام میں پوری یا قصر نماز پڑھنے کے سلسلہ میں آیت اللہ سیستانی فرماتے ہیں کہ زائز حضرت سید الشہداء (علیہ السلام) کے حرم میں ، قبر مطہر کے اطراف میں ساڑھے گیارہ میٹر کے فاصلے تک، پوری نماز پڑھ سکتا ہے۔
اور آیت اللہ خامنہ ای فرماتے ہیں:مسافر پورے حرم میں پوری نماز پڑھ سکتا ہے ، سرہانے کی طرف سے حرم کا داخلی حصہ، اور پائنتی کی طرف سے جو حصہ دورازوں تک پھیلا ہوا ہے اسی طرح پیچھے کی سمت مسجد تک جس کا دائرہ ہے ، ان سب جگہوں پر نماز کو قصر اور پوری پڑھنے میں اختیار ہے۔