کیا مسجدِ نبوی میں قالین پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ جبکہ کاغذ یا چٹائی جیسی ایسی چیز رکھنا جن پر سجدہ صحیح ہوتا ہے، لوگوں کی توجہ کا باعث بنتا ہے اور نمازی کو معاندانہ نگاہوں اور مخالفین کے تمسخر کا نشانہ بنا سکتا ہے۔
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
جہاں انسان کو تقیہ کرنا ضروری ہو، وہاں وہ قالین یا اسی جیسی چیز پر سجدہ کر سکتا ہے اور نماز کے لیے کسی دوسری جگہ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اگر اسی جگہ بغیر کسی خاص دشواری کے چٹائی، پتھر یا ایسی دوسری چیز پر سجدہ کرنا ممکن ہو جن پر سجدہ صحیح ہے، تو بنا بر احتیاطِ واجب انہی چیزوں پر سجدہ کرنا چاہیے۔
(استفتاءاتِ حج، مقامِ معظم رہبری)