میرا مرجعِ تقلید وفات پا چکا ہے اور میں اسے زندہ مجتہدین سے زیادہ اعلم سمجھتا ہوں۔ کیا میں اس کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہوں؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
آیاتِ عظام امام خمینیؒ، خامنہ ای اور نوری ہمدانی:
جی ہاں، آپ اس کی تقلید پر باقی رہ سکتے ہیں۔
آیت اللہ بہجت:
جن مسائل میں آپ نے ان کے فتوے پر عمل کیا ہے، ان میں ان کی تقلید پر باقی رہنا واجب ہے۔
آیت اللہ صافی گلپایگانی:
بنا بر احتیاطِ واجب، آپ کو ان کی تقلید پر باقی رہنا چاہیے۔
آیاتِ عظام سیستانی، فاضل لنکرانی اور وحید خراسانی:
آپ پر ان کی تقلید پر باقی رہنا واجب ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی:
جن مسائل میں آپ نے مرجعِ متوفیٰ کے فتوے پر عمل کیا ہے، ان میں ان کی تقلید پر باقی رہنا ضروری ہے۔
آیت اللہ تبریزی:
جن مسائل کو آپ نے ان کی حیات میں عمل کے لیے سیکھا تھا، ان میں ان کی تقلید پر باقی رہنا لازم ہے۔