کیا کسی مرد کے لیے اجنبی عورت کے غنا (گانے) کو اس نیت سے سننا جائز ہے کہ وہ اپنی حلال زوجہ سے لذت حاصل کرے؟ نیز کیا بیوی کا اپنے شوہر کے لیے اور شوہر کا اپنی بیوی کے لیے غنا کرنا جائز ہے؟ اور کیا یہ بات درست ہے کہ غنا صرف اس لیے حرام کیا گیا ہے کہ وہ مجالسِ لہو و لعب کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. جواب
    شہید امت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے فتوے کے مطابق:

    غنا، یعنی آواز کو ایسے مخصوص انداز اور اتار چڑھاؤ کے ساتھ پیش کرنا جو لہوی ہو، انسان کو راہِ خدا سے غافل کرنے والا ہو اور لہو و گناہ کی محفلوں کے مناسب ہو، اس کا سننا مطلقاً حرام ہے۔

    لہٰذا:

    اجنبی عورت کے غنا کو سننا جائز نہیں۔
    بیوی کا اپنے شوہر کے لیے غنا کرنا اور شوہر کا اپنی بیوی کے لیے غنا کرنا بھی جائز نہیں۔
    اپنی حلال زوجہ سے لذت حاصل کرنے کی نیت بھی غنا کے سننے کو مباح نہیں بناتی۔

    مزید یہ کہ غنا اور اس جیسے امور کی حرمت شرعی تعبّد سے ثابت ہے اور فقہِ شیعہ کے مسلم اور ثابت احکام میں سے ہے۔ اس کا حکم فرضی نفسیاتی یا سماجی اثرات پر موقوف نہیں ہے، بلکہ جب تک کسی آواز پر غنا کا عنوان صادق آتا رہے گا، اس کا حکم حرمت اور اس سے اجتناب ہی ہوگا۔

جواب دیں۔

براؤز کریں۔