اگر کوئی شک کرے کہ پانچویں رکعت ہے یا چوتھی تو اسکا کیا حکم ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم ورحمۃ اللہ

    اگر کسی شخص کو دوسرے سجدے کے دوران شک ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ تو وہ یہ سمجھے کہ چار پڑھی ہیں اور اس بنیاد پر نماز پوری کرے اور نماز کے بعد دو سجدہ سہو بجا لائے۔ اور بعید نہیں کہ یہی حکم ہر اس صورت میں ہو جہاں کم از کم شک چار رکعت پر ہو مثلاً چار اور چھ رکعتوں کے درمیان شک ہو اور یہ بھی بعید نہیں کہ ہر اس صورت میں جہاں چار رکعت اور اس سے کم یا اس سے زیادہ رکعتوں میں دوسرے سجدے کے دوران شک ہو تو چار رکعتیں قرار دے کر دونوں شک کے اعمال انجام دے یعنی اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت سے کم پڑھی ہیں نماز احتیاط پڑھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت سے زیادہ پڑھی ہیں بعد میں دو سجدہ سہو بھی کرے۔ اور تمام صورتوں میں اگر پہلے سجدے کے بعد اور دوسرے سجدے میں داخل ہونے سے پہلے سابقہ چار شک میں سے ایک اسے پیش آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔
    استفتاآت آیه الله خامنه ای مد ظله

    http://farsi.khamenei.ir/99

    توضیح المسائل آیه الله سیستانی مد ظله مسئله نمبر 1208

    https://www.sistani.org/3638/

    مزید استفادہ کی خاطر شکیات صحیح کی تمام صورتیں ذکر کی جا رہی ہیں:
    ۔ دوسرے سجدے کے دوران شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین ۔ اس صورت میں اسے یوں سمجھ لینا چاہئے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں اور ایک اور رکعت پڑھے پھر نماز کو تمام کرے اور احتیاط واجب کی بنا پر نماز کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر بجالائے۔
    ۲۔ دوسرے سجدے کے دوران اگر شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو یہ سمجھ لے کہ چار پڑھی ہیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر بجالائے۔
    ۳۔ اگر کسی کو دوسرے سجدے کے دوران شک ہو جائے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین یا چار تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ چار پڑھی ہیں اور وہ نماز ختم ہونے کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر بجالائے۔
    ۴۔ اگر کسی شخص کو دوسرے سجدے کے دوران شک ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ تو وہ یہ سمجھے کہ چار پڑھی ہیں اور اس بنیاد پر نماز پوری کرے اور نماز کے بعد دو سجدہ سہو بجا لائے۔ اور بعید نہیں کہ یہی حکم ہر اس صورت میں ہو جہاں کم از کم شک چار رکعت پر ہو مثلاً چار اور چھ رکعتوں کے درمیان شک ہو اور یہ بھی بعید نہیں کہ ہر اس صورت میں جہاں چار رکعت اور اس سے کم یا اس سے زیادہ رکعتوں میں دوسرے سجدے کے دوران شک ہو تو چار رکعتیں قرار دے کر دونوں شک کے اعمال انجام دے یعنی اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت سے کم پڑھی ہیں نماز احتیاط پڑھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت سے زیادہ پڑھی ہیں بعد میں دو سجدہ سہو بھی کرے۔ اور تمام صورتوں میں اگر پہلے سجدے کے بعد اور دوسرے سجدے میں داخل ہونے سے پہلے سابقہ چار شک میں سے ایک اسے پیش آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔
    ۵۔ نماز کے دوران جس وقت بھی کسی کو تین رکعت اور چار رکعت کے درمیان شک ہو ضروری ہے کہ یہ سمجھ لے کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کہ یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
    ۶۔ اگر قیام کے دوران کسی کو چار رکعتوں اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد اور کا سلام پڑھے اور ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
    ۷۔ اگر قیام کے دوران کسی کو تین اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد اور نماز کا سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔
    ۸۔ اگر قیام کے دوران کسی کو تین، چار اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور سلام نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھرے ہو ہو کر اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
    ۹۔ اگر قیام کے دوران کسی کو پانچ اور چھ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد اور نماز کا سلام پڑھے اور دو سجدہ سہو بجالائے اور احتیاط مستحب کی بنا پرپر ان چار صورتوں میں بےجا قیام کے لئے دو سجدہہ سہو بھی بجالائے۔
    https://www.sistani.org/urdu/book/61/3638/

جواب دیں۔

براؤز کریں۔