بیوی راضی نہ ہو تو کیا کمائی حرام ہے ؟

سوال

اگرکوئی کمائی کے لئے سعودی عرب جائے اور اپنی بیوی سے ۴ مہینے سے زیادہ دن دور رہتا ہے اور اسکی بیوی راضی نہیں ہے تو کیا یہ کمائی حرام ہے ؟

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    زوجہ کے حقوق کے رو سے یہ مسئلہ اپنی جگہ مسلم ہے کہ ۴ مہینے سے زیادہ نزدیکی کو ترک نہیں کیا جاسکتا، مراجع کرام فرماتے ہیں : لايجوزترك وطءالزوجةأكثرمن أربعةأشهر

    تحریر الوسیله امام خمینی کتاب النکاح مسئلہ ۱۳

    اور نزدیکی میں زیادہ سے زیادہ ۴ مہینہ تک چھوٹ کی فقہی بنیاد، قاعده نفي حرج ، ثبوت حكم ايلاء کے علاوہ امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت جس میں آپ فرماتے ہیں : إِذَا تَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ كَانَ آثِماً بَعْدَ ذَلِكَ ۔ اگر ۴ مہینہ سے زیادہ اس نے نزدیکی کو ترک کیا تو گنہگار ہوگا ۔

    تهذيب الأحكام، ج‌7، ص: 419

    اس مقام پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ نزدیکی میں ۴ مہینہ تک کی چھوٹ بھی اس صورت میں ہے کہ جب بیوی کو ۴ مہینہ سے پہلے جنسی ضرورت کی شدت محسوس نہ ہو ، لیکن اگر ایسا ہو اور اس وجہ سے خدا نہ خواستہ کسی گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ ہو تو فقہائے کرام نے امام رضا علیہ السلام کی اسی روایت کے پیش نظر جس کے مکمل الفاظ اس طرح ہیں : مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي اَلْحَسَنِ اَلرِّضَا عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ اَلرَّجُلِ يَكُونُ عِنْدَهُ اَلْمَرْأَةُ اَلشَّابَّةُ فَيُمْسِكُ عَنْهَا اَلْأَشْهُرَ وَ اَلسَّنَةَ لاَ يَقْرَبُهَا لَيْسَ يُرِيدُ اَلْإِضْرَارَ بِهَا يَكُونُ لَهُمْ مُصِيبَةٌ يَكُونُ فِي ذَلِكَ آثِماً قَالَ إِذَا تَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ كَانَ آثِماً بَعْدَ ذَلِكَ . فقہائے کرام نے اسی روایت کے پیش نظر نیز قاعده نفي حرج ، اور ثبوت حكم ايلاء کی بنیاد پر فتوای دیا ہے کہ ایسی صورت میں ہرگز اس طرح کی چھوٹ نہیں ہے اور زوجہ کی جنسی ضرورت کو پورا کرنا بہرحال واجب ہے ۔

    عروه‏ الوثقى، سید محمّدکاظم طباطبائى یزدى، ج 2، ص 810

    منهاج‏ المؤمنین، سید شهاب‏الدین مرعشى نجفى، ج 2، ص 208

    موسوعة الامام‏ الخوئى، ج 32، ص 122

    البتہ بعض کتابوں میں اس روایت کے آخر میں إِلاَّ أَنْ يَكُونَ بِإِذْنِهَا بھی لکھا ہے

    تفصیل وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة ، جلد20 ، صفحه 140

    اس بنیاد پر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر زوجہ کی اجازت ہو تو چار مہینہ سے زیادہ بھی نزدیکی کو ترک کیا جا سکتا ہے اور یہ حکم یعنی چار مہینہ سے زیادہ نزدیکی کو ترک نہ کرنے کا حکم اس صورت میں ہے جب کوئی عذر نہ ہو ، لیکن اگر کوئی عذر ہو تو پھر عذر کے ختم ہونے تک یہ حکم ٹل جائے گا ۔

    اب یہاں سوال یہ ہے کہ آیا سفر قابل قبول عذر ہے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں فقہا فرماتے ہیں کہ اگر وہ سفر کوئی معقول اور ضروری سفر ہے جیسے زیارت ، تلاش رزق اور تحصیل علم وغیرہ تو ایسے سفر کو عذر مانا جائے گا ، لیکن اگر سفر محض تفریح کے لئے ہے تو اس سفر کو عذر نہیں مانا جائے گا اور اسے عام حالت میں چار مہینہ سے پہلے ، اور ضرورت کی صورت میں اس سے بھی پہلے ہرحال میں لوٹنا ہوگا ۔

    کتاب تحریر الوسیلہ میں اس فتوی کا متن اس طرح ہے :

    لايجوزترك وطءالزوجةأكثرمن أربعةأشهرإلّابإذنهاحتى المنقطعةعلى الأقوى‏،ويختصّ الحكم بصورةعدم العذر،وأمّامعه فيجوزالترك مطلقاًمادام وجودالعذر،كماإذا خيف الضررعليه أو عليها،ومن العذر عدم الميل المانع عن انتشار العضو.

    وهل يختصّ الحكم بالحاضرفلابأس على المسافر وإن طال سفره،أو يعمّهما فلايجوزللمسافرإطالةسفره أزيدمن أربعةأشهر، بل يجب عليه مع عدم العذرالحضورلإيفاءحق زوجته؟قولان: أظهرهماالأوّل،لكن بشرط كون السفرضروريّاً ولو عرفاً، كسفرتجارة أوزيارة أو تحصيل علم ونحو ذلك،دون ماكان لمجرّدالميل والأنس والتفرّج ونحو ذلك على الأحوط.

    تحریر الوسیله امام خمینی کتاب النکاح مسئلہ ۱۳

    مزکورہ دلائل کی روشنی میں آپ کی کمائی اس کی وجہ سے حرام نہیں ، کمائی تب حرام ہوگی جب حرام طریقوں سے کمائی جائے، ورنہ کمائی کے سفر کے لئے بیوی کی اجازت اور رضایت بھی ضروری نہیں ۔ البتہ بیوی کے حقوق کی ادائیگی اپنی جگہ ثابت ہے، اور حق تلفی کرنے والا گنہگار ہے مگر یہ کہ زوجہ رضایت دیدے ۔

    مشورتا عرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو روزی کو وہاں تلاش کرنے کی کوشش کریں جہاں اپنے بیوی بچوں کو ساتھ رکھ سکیں، اس طرح زندگی میں سکون بھی زیادہ ہے اور حق تلفی جیسے گناہوں میں پڑنے کے امکان بھی ختم ہوجاتے ہیں، بیوی بچوں کی زندگی بھی خوشگوار گذرتی ہے ۔

    و السلام

    مزید معلومات کے لئے رجوع کیجئے :

    ٰslamquest.net

    درس خارج فقه آیت الله شبیری

    درس خارج فقه آیت الله جوادی

جواب دیں۔

براؤز کریں۔