حایر حسینی کے حدود کیا ہیں ؟

سوال

کربلا میں حایر سے کیا مراد ہے اور حایر حسینی کے حدود کیا ہیں ؟

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    حائر حسینی کی حدود کا تعین اس لیے اہم ہے کہ اس کے لیے ـ بالخصوص نماز مسافرکے موضوع میں ـ خاص فقہی حکم وارد ہوا ہے اور وہ حکم حرم مکی، حرم نبویاور مسجد کوفہ کے لیے مختص احکام میں سے بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ 10 دن سے کم قیام کرنے والے مسافر کے لیے صرف ان مقامات مقدسہ میں پوری نماز پڑھنا نہ صرف جائز، بلکہ مستحب ہے۔ یہ امامیہ کا مشہور فتوی ہے، گو کہ نماز قصرپڑھنا بھی ایسے فرد کے لیے جائز ہے۔۔[1][2]

    جن احادیث کی بنیاد پر یہ فقہی حکم صادر ہوا ہے، ان میں بیان ہوا ہے کہ جن حدود میں زائرین امام حسین(ع) کے لیے پوری نماز پڑھنا جائز ہے اس کو حرم، حائر یا مدفن کے پاس ("عِندَ القَبرِ”)، کے جیسے عناوین دیے گئے ہیں…۔[3][4]بعض فقہا[5][6]نے حائر کی حدود کے لیے مرکزی نقطے (قبر امام(ع) سے ) کئی فرسخ کے فاصلے پر دلالت کرنی والی احادیث سے استناد کرتے ہوئے پورے شہر کربلاکو حائر ـ اور اس حکم کا مصداق ـ قرار دیا ہے؛ لیکن فقہا کی اکثریت نے اس حکم کو صرف حائر حسینی کے مفہوم خاص ـ یعنی حرم کے اہم ترین قریبی حصے ـ کی حد تک قبول کیا ہے۔[7][8]البتہ حائر کی دقیق اور صحیح حدود کے سلسلے میں ان کی آراء و اقوال میں فرق ہے، جیسے:

    امام حسین(ع) کے حرم کے علاوہ حضرت عباس(ع) کا مرقد منور اور دوسرے شہداء کے مراقد حائر کی حدود میں شامل ہیں آج کل یہ احاطہ حرم کہلاتا ہے۔۔[9][10]
    صفوی دور کے توسیعی اقدامات سے پہلے حرم اور صحن کا حصہ حائر میں شامل ہے ۔۔[11][12]
    بعض فقہا احتیاط کی بنا پر، صرف روضۂ مقدس ہی کو حائرقرار دیتے ہیں اور حتی کہ رواق میں موجود مسجد کو بھی حائر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ پوری نماز کے اس مخصوص حکم میں روزہ کا قصر ہونا شامل نہیں ہے۔۔[13][14]
    ضریح مطہر کے اطراف۔۔۔[15][16][17]
    ضریح مطہر کے اطراف تقریبا ساڑھے نو میٹر، آیۃ اللہ سیستانی کی نظر یہی ہے ۔[18]
    حرم مطہر کا داخلی حصہ بشمول رواق وغیرہ، البتہ صحن شامل نہیں ہے ، رہبر معظم کی نظر یہی ہے۔[19]
    حوالے :

    شہید ثانى، الروضۃ البہیۃ فى شرح اللمعۃ الدمشقیۃ ج1، ص787ـ788۔
    طباطبائى یزدى، العروۃ الوثقى ج2، ص164۔
    روجردى، مستند العروۃ الوثقى ج8، ص418ـ419۔۔
    حرّعاملى، وسائل الشیعہ، ج 8، ص524، 527ـ528، 530ـ532
    ابن سعید، الجامع للشّرائع، ص93۔
    نراقى، مستند الشیعۃ فى احكام الشریعۃ ج8، ص313، 317
    بحرانى، الحدائق النّاضرۃ فى احكام العترۃ الطاهرۃ ج11، ص462۔
    نراقى، مستند الشیعۃ فى احكام الشریعۃ ج8، ص313ـ314
    مفید، الارشاد ج2، ص126۔
    حلّى، السرائر ج1، ص342
    مجلسى، بحار، ج 86، ص89ـ90۔
    كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسین(ع)، ص53ـ54۔
    مجلسى، بحار، ج 86، ص89۔
    خمینى، تحریرالوسیلہ ج1، ص233۔
    طباطبائى یزدى، تحریر الوسیلہ، ج 2، ص164ـ165۔
    بروجردى، مستند العروۃ الوثقى ج8، ص419ـ420، 425ـ 426۔
    نراقى، مستند الشیعۃ فى احكام الشریعۃ ج8، ص419ـ420، 425ـ 426۔
    https://www.sistani.org/persian/qa/0931/
    http://farsi.khamenei.ir/treatise-content?id=213#2284

جواب دیں۔

براؤز کریں۔