خنزیر کی ملاوٹ والی دواوں کا استعمال کیسا ہے ؟

سوال

بعض دواوں میں خنزیر کے اجزا  ملائے جاتے ہیں ایسی دواوں کے استعمال کا حکم کیا ہے ؟

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    اس سلسلہ میں رھبر معظم آیۃ خامنہ ای اور آیۃ اللہ سیستانی کے فتاوا کے مطابق خلاصہ کے طور پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ :

    ملاوٹ دو طرح سے ہو سکتی ہے :

    ۱ ۔ استحالہ ہوچکا ہے اور ملاوٹ ہوئی ہے

    ۲ ۔ ملاوٹ ہوئی ہے لیکن استحالہ نہیں ہوا

    پہلی صورت میں تو پاک ہے اور اس کا استعمال بھی جائز ہے

    لیکن دوسری صورت میں پھر دو صورت ہے

    ۱ ۔ اس دوا کے علاوہ دوسری دواوں کا بھی امکان ہے

    ۲ ۔ علاج منحصر ہے صرف اسی دوا میں

    پہلی صورت میں ضروری ہے کہ اس دوا سے پرہیز کیا جائے اور دوسری دواوں کا دوسرے طریقہ علاج کا سہارا لیا جائے

    لیکن اگر علاج منحصر ہے صرف اسی دوا میں اور بیماری بھی ناقابل تحمل ہے تو بقدر ضرورت اس دوا کے استفادہ میں کوئی حرج نہیں ۔

    حوالے :

    استفتا از دفاتر آیات عظام: خامنه‌ای،سیستانی،مکارم شیرازی، نوری همدانی (مد ظلهم العالی) توسط سایت اسلام کوئست.

    سایت استانها، ویژه نمایندگان مقام معظم رهبری، بخش سوالات نمایندگی ها ، شماره استفتاء: 502993

    منتخب المسائل، ص102، س403 و 405 و 406

    پاسخ های آیت الله کریمی، ص165، س20274 / همان، ص166، س21285 /

    استفتائات جدید، س516

    الفقه للمغتربین، الباب الثانی: فقه المعاملات، الفصل الاول: المأکولات و المشروبات، ص105، با استفاده از م178 / همان، ص109، با استفاده از م190 /

    استفتائات آیت الله سیستانی، ویژه نمایندگان، دفتر قم، ص57 و 61 و 62 /

    سایت کلیشه (سایت اختصاصی آیت الله سیستانی)، ویژه نمایندگان معظم له، بخش "استفتائات نجف”، با استفاده از س45044 و همچنین بخش "کلیشه”

    Tebyan.net

جواب دیں۔

براؤز کریں۔