شیعہ دو نمازوں کو ایک ساتھ کیوں پڑھتے ہیں؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلافی مسائل میں سے ایک مشہور و معروف اختلافی مسئلہ دو ایسی نمازوں کو ملا کر یا الگ الگ کر کے پڑھنا ہے کہ جنکا آپس میں مشترک وقت ہے، جیسے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء۔ یہاں پر اس سلسلہ میں شیعہ اور اہل سنت کے نظریات ذکر کئے جا رہے ہیں:
    پہلا حصہ: شیعہ مذہب اور دو نمازوں کو جمع کرنے کا مسئلہ:
    تمام مسلمانوں کی متفقہ نظر کے مطابق ایام حج میں مقام عرفہ پر نماز ظہر و عصر کو اور مقام مزدلفہ پر نماز مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھنا جائز اور مستحب ہے۔
    جیسا کہ آيت الله سبحانی نے لکھا ہے کہ:
    تمام فقہاء ( شیعہ و اہل سنت) عرفہ میں نماز ظہر و عصر اور مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء کے ملا کر پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔
    السبحاني، الشيخ جعفر، العقيدة الإسلامية على ضوء مدرسة أهل البيت (ع) ، ص 340 ،‌ تحقيق : نقل إلى العربية : جعفر الهادي، ناشر : مؤسسة الإمام الصادق (ع) ، چاپخانه : اعتماد – قم، چاپ : الأولى، سال چاپ : 1419 – 1998 م
    مذہب اہل بیت (ع) کے مطابق نماز ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کو ہر حالت میں ملا کر پڑھنا جائز ہے، یعنی انسان اپنے وطن میں ہو یا سفر کی حالت میں، مریض ہو یا صحت مند ہو، عذر شرعی ہو یا نہ ہو، ان تمام حالات میں آپس میں مشترک وقت والی دو دو نمازوں کو ملا کر پڑھ سکتا ہے۔
    شہید اول نے شیعہ عقیدے کو اسطرح سے بیان کیا ہے کہ:
    شیعہ علماء کے نزدیک نماز ظہر و عصر کو حالت سفر و حضر ، حالت اختیار و مجبوری میں ملا کر پڑھنے کے جائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
    اہل سنت نے بھی اسی جواز کو علی (ع)، ابن عباس، ابن عمر، ابو موسی، جابر، سعد ابن ابی وقاص اور عائشہ سے نقل کیا ہے۔ ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ: رسول خدا نے بغیر کسی خوف اور سفر کی حالت میں نہ ہوتے ہوئے بھی، نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا تھا۔۔۔۔۔
    العاملي الجزيني، محمد بن جمال الدين مكي، الشهيد الأول (متوفي786 ه‍ ـ) ذكرى الشيعة في أحكام الشريعة، ج 2، ص332، تحقيق : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، ناشر : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث – قم، الطبعة الأولى 1419
    لیکن ہر نماز کو الگ الگ کر کے خود اسی کے وقت میں پڑھنا یہ فقہ شیعہ میں مستحب ہے اور اسی بات کو شیعہ فقہی کتب میں بھی ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ شہید اول نے لکھا ہے کہ:
    جیسا کہ شیعہ مذہب میں ہر حالت میں دو نمازوں کے درمیان جمع کر کے پڑھنا، جائز ہے، اسی طرح ہر نماز کو الگ الگ کر کے پڑھنا بھی مستحب ہے، اسی بات پر شیعہ روایات اور کتب بھی گواہی دیتی ہیں۔
    العاملي الجزيني، محمد بن جمال الدين مكي، الشهيد الأول، ج 2 ، ص 335
    صاحب کتاب عروه نے بھی لکھا ہے کہ:
    دو نمازوں کو، کہ جنکے پڑھنے کا وقت مشترک ہے، جیسے نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء، الگ الگ پڑھنا بھی مستحب ہے۔
    الطباطبائي اليزدي، السيد محمد كاظم (متوفي 1337هـ) العروة الوثقى، ج 2 ، ص 262 ، تحقيق : مؤسسة النشر الإسلامي، ناشر : مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة، چاپ : الأولى، سال چاپ : 1417
    دو نمازوں کے الگ پڑھنے پر دلالت کرنے والی روایات:
    وہ روایات کہ جو دو نمازوں کو الگ الگ پڑھنے کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہیں، وہ روایات اس نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دو نمازوں کے مشترک وقت میں، ایک نماز مثلا ظہر کو پڑھنے کے بعد، ان دو نمازوں (ظہر یا عصر) کے نوافل پڑھے جائیں اور اگر نوافل کے وقت میں نوافل نہ پڑھے جائیں اور نماز عصر (کیونکہ نماز ظہر تو پہلے پڑھی جا چکی ہے) پڑھ لی جائے تو ایسا کرنا، نماز ظہر و عصر کے درمیان جمع کرنا کہا جاتا ہے، اسی مطلب پر دو روایات ہیں کہ جنکو شیعہ فقہاء نے دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے:
    روايت اول:
    محمد ابن حكيم کہتا ہے کہ میں نے امام کاظم (ع) کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: جب تم دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا چاہو تو پھر ان دونوں کے درمیان نوافل کو نہ پڑھو۔
    الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفى328 هـ)، الأصول من الكافي ، ج 3 ص 287، ح3، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

    روايت دوم:
    محمد ابن حكيم کہتا ہے کہ میں نے امام کاظم (ع) کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: دو نمازوں کے درمیان جمع کرنا اس وقت ہوتا ہے کہ جب ان دونوں نمازوں کے درمیان نوافل کو نہ پڑھا جائے، لیکن اگر دو نمازوں کے درمیان نوافل کو پڑھا جائے تو پھر دو نمازوں کے درمیان جمع کرنا نہیں کہا جاتا۔
    الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب،الكافي، ج 3، ص 287، ح4
    اور ایک دوسری موثق روایت ہے کہ جس میں امام کاظم (ع) نے فرمایا ہے کہ: جب تم دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا چاہو تو پھر ان دونوں کے درمیان نوافل کو نہ پڑھو۔
    الهمداني، آقا رضا (متوفي1322هـ)، مصباح الفقيه (ط.ق)، ج 2، ق 1 ص 209، ناشر: منشورات مكتبة الصدر – طهران، چاپخانه: حيدري، توضيحات: طبعة حجرية، طبق برنامه كتابخانه اهل البيت عليهم السلام.
    وہ روایات جو دو نمازوں کے ملا کر پڑھنے کو جائز قرار دیتی ہیں:
    شیعہ فقہ اور شیعہ روایات کے مطابق دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا، یہ سفر و شرعی عذر دونوں حالتوں میں جائز ہے، لیکن جب کوئی عذر نہ بھی ہو اور انسان سفر کی حالت میں نہ بھی ہو تو ، پھر بھی دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔
    اس بارے میں شیعہ روایات کی کئی اقسام ہیں:
    قسم اول: سيرت رسول خدا (ص)‌ اور جمع بين دو نماز:
    امام باقر اور امام صادق (ع) سے نقل ہونے والی بہت سی روایات میں دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں رسول خدا کی سیرت کو بیان کیا گیا ہے۔
    روايت اول: روایت امام باقر (ع) با سند صحیح:
    زراہ نے امام باقر(ع) سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نماز ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کیا کرتے تھے۔
    الشيخ الطوسي، تهذيب الأحكام، ج 3، ص 18
    روايت دوم: روایت امام صادق (ع) با سند صحيح:
    امام صادق (ع) نے متعدد روايات میں دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے بارے میں رسول خدا (ص) کی سیرت حسنہ کو بیان کیا ہے۔ ان روایات میں سے ایک صحیح روایت میں امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:
    عبد الله ابن سنان نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نماز ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ حالت حضر میں بغیر کسی علت و سبب کے، جمع کیا کرتے تھے۔
    الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفى381هـ)، من لا يحضره الفقيه، ج1، ص287، ح 886، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: جامعه مدرسين حوزه علميه قم.
    حالت حضر: یعنی سفر کی حالت میں نہ ہونا، بلکہ اپنے شہر میں ہی موجود ہونا۔
    حالت حضر کے مقابلے پر حالت سفر ہے۔
    روايت سوم: روایت امام صادق (ع) با سند صحيح:
    ایک دوسری صحیح روایت میں امام صادق (ع) نے تصریح کی ہے کہ رسول خدا (ص)بغیر کسی عذر و سبب کے نماز ظہر و عصر کو ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے اور اس کام کی دلیل، امت کے لیے کام کو آسان کرنا ذکر کیا ہے:
    امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ: رسول خدا بغیر کسی عذر و سبب کے نماز ظہر و عصر کو ایک ہی جگہ پر، ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ عمر ابن خطاب نے رسول خدا (ص)سے کہا: کیا نماز کے بارے میں کوئی نئی چیز (وحی) آئی ہے ؟حضرت نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی امت کے لیے کام کو آسان کر دوں۔
    الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي 381هـ)، علل الشرائع، ج‏2، ص 321، تحقيق وتقديم : السيد محمد صادق بحر العلوم، ناشر : منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها – النجف الأشرف، الطبع: 1385 – 1966 م
    روايت چہارم: موثقہ زراره
    ایک دوسری موثق روایت میں بھی امام صادق (ع) سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا(ص) دو نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے اور فرمایا ہے کہ یہ کام امت کی آسانی کے لیے انجام دے رہا ہوں۔
    زرارہ نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ: رسول خدا (ص) نماز ظہر و عصر کو ظہر کے وقت بغیر کسی سبب (بارش، خوف، جنگ وغیرہ) کے جماعت کے ساتھ پڑھا اور نماز مغرب و عشاء کو بھی بغیر کسی عذر کے جماعت کے ساتھ پڑھا۔ رسول خدا نے اس کام کو عملی طور پر انجام دیا تا کہ امت اپنے وقت سے زیادہ اچھے طریقے سے اپنے کاموں کو انجام دے سکے۔
    الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفى328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 3، ص 286، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.
    اسی روایت کو شيخ صدوق اور شيخ طوسی نے بھی اپنی اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے:
    الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي 381هـ)، علل الشرائع، ج 2، ص321، تحقيق وتقديم: السيد محمد صادق بحر العلوم، ناشر : منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها – النجف الأشرف، الطبع: 1385 – 1966 م
    الطوسي، محمد بن الحسن، الاستبصار (متوفي460هـ)، ج 1، ص271، تحقيق وتعليق : السيد حسن الموسوي الخرسان، ناشر : دار الكتب الإسلامية – طهران، چاپ : الرابعة، سال چاپ : 1363 ش
    الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفى460هـ)، تهذيب الأحكام، ج2، ص263، تحقيق: السيد حسن الموسوي الخرسان، ناشر: دار الكتب الإسلامية ـ طهران، الطبعة الرابعة،‌1365 ش .
    قسم دوم: امام باقر اور امام صادق (عليہما السلام) کا دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی تائید کرنا:
    بعض روایات ایسی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام باقر اور امام صادق (عليہما السلام) نے بھی دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنے کی تائید کی ہے۔
    روايت اول با سند معتبر:
    روایت معتبر میں ذکر ہوا ہے کہ زراره نے امام باقر و امام صادق (عليہما السلام) سے اس شخص کے بارے سوال کیا کہ جس نے نماز عشاء کو آسمان سے مغرب کی سرخی زائل ہونے سے پہلے پڑھا تھا کہ کیا اسکی نماز صحیح ہے یا باطل ہے ؟ ہر دو امام نے جواب فرمایا کہ: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس روایت کو شیخ طوسی نے اپنی دو کتابوں میں ذکر کیا ہے:
    فأما ما رواه سعد بن عبد الله عن أحمد بن محمد عن أبي طالب عبد الله بن الصلت عن الحسن بن علي بن فضال عن الحسن بن عطية عن زرارة قال : سألت أبا جعفر وأبا عبد الله عليهما السلام عن الرجل يصلي العشاء الآخرة قبل سقوط الشفق فقال : لا بأس به .
    زراره کہتا ہے کہ میں نے امام باقر و امام صادق عليہما السلام سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے نماز عشاء کو آسمان سے مغرب کی سرخی زائل ہونے سے پہلے پڑھا تھا۔ امام نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    الشيخ الطوسي، الاستبصار، ج 1، ص 271 ؛ الشيخ الطوسي، تهذيب الأحكام ، ج 2 ، ص 34، ح ( 104 ) * 55
    ضروری نوٹ:
    شیعہ فقہاء نے فرمایا ہے کہ نماز مغرب کا خاص وقت فقط اتنی مقدار میں ہے کہ جس میں تین رکعت مغرب کی نماز پڑھی جائے، اسکے بعد نماز عشاء کا اول وقت ہو جاتا ہے۔ اسکے بعد سے لے کر آدھی رات تک مشترک وقت (نماز مغرب و عشاء) شمار ہوتا ہے۔
    اس مطلب کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جب انسان نماز مغرب کے بعد ، نماز عشاء پڑھنا چاہے تو وہ وقت نماز مغرب و نماز عشاء کا مشترک وقت شمار ہوتا ہے اور اسی وقت میں دو نمازوں کو جمع کرنا کہا جاتا ہے، اور اس روایت میں امام باقر و امام صادق (عليہما السلام) سے اسی مطلب کے بارے میں سوال کیا تھا اور ہر دو امام نے اسی وجہ سے فرمایا تھا کہ: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    روايت دوم با سند معتبر:
    ایک دوسری معتبر روایت کے مطابق کہ جسکو شیخ طوسی نے نقل کیا ہے کہ امام صادق (ع) نے دو نمازوں کے جمع کرنے کے سوال کے جواب میں، اس کام کی تائید کی ہے:
    سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام نَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَ الْعِشَاءِ فِي الْحَضَرِ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ قَالَ لَا بَأْسَ.
    اسحاق ابن عمار کہتا ہے کہ: میں نے امام صادق (ع)سے سوال کیا کہ ہم اپنے شہر میں (نہ سفر میں) بغیر کسی عذر (بارش، خوف، جنگ۔۔) کے نماز مغرب و عشاء کو شفق (سرخی وقت مغرب) زائل ہونے سے پہلے ملا کر پڑھتے ہیں، کیا ایسا کرنے میں کوئی اشکال ہے ؟ امام صادق (ع)نے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    الشيخ الطوسي، الاستبصار، ج 1، ص 272، الشيخ الطوسي، تهذيب الأحكام ، ج ،2 ص 263، ح ( 1047 )
    قسم سوم: امام باقر (ع) کا دو نمازوں کو جمع کرنے کا حکم، با سند معتبر:
    روایات کی ایک اور قسم ہے کہ جو حکایت کرتی ہے کہ امام باقر (ع) نے بچوں کو حکم دیا تھا کہ وہ نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا کریں:
    روايت اول با سند صحيح:
    اس روایت کو مرحوم حمیری نے سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے:
    عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الصِّبْيَانَ يَجْمَعُونَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْأُولَى وَ الْعَصْرِ وَ الْمَغْرِبِ وَ الْعِشَاءِ يَقُولُ مَا دَامُوا عَلَى وُضُوءٍ قَبْلَ أَنْ يَشْتَغِلُوا.
    امام صادق (ع)نے فرمایا ہے کہ میرے والد گرامی امام باقر بچوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب تک وہ وضو کی حالت میں ہوتے ہیں اور کسی دوسرے کام میں مصروف بھی نہیں ہوتے تو ، نماز ظہر کو نماز عصر کے ساتھ اور نماز مغرب کو نماز عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھیں۔
    الحميري القمي، قرب الاسناد، ص 23
    نتیجے کے طور پر یہ روایت صحیح اور معتبر ہو گی اور یہ روایت بتاتی ہے کہ امام باقر (ع) کی نظر میں دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ کام جائز نہ ہوتا تو امام ہرگز اس کام کے کرنے کا حکم نہ دیتے۔
    روايت دوم:
    یہ روایت ایک دوسری سند کے ساتھ بھی نقل ہوئی ہے:
    وبهذا الاسناد ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : إنا نأمر الصبيان أن يجمعوا بين الصلاتين الأولى والعصر وبين المغرب والعشاء الآخرة ما داموا على وضوء قبل أن يشتغلوا.
    امام صادق (ع) نے فرمایا کہ ہم بچوں کو حکم دیتے ہیں کہ پہلی نماز (ظہر) کو عصر کے ساتھ اور مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھیں، البتہ جب تک وہ وضو کی حالت میں ہوں اور کسی دوسرے کام میں مصروف بھی نہ ہوئے ہوں۔
    الكليني، محمد بن يعقوب، الكافي، ج 6 ، ص 47
    نتيجہ:
    شیعہ کی صحیح و معتبر روایات کے مطابق، رسول خدا (ص)بغیر سفر و کسی عذر کے عام حالات میں بھی مشترک وقت والی دو نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے اور جب ان سے اس کا سبب پوچھا جاتا تو کہتے تھے کہ میں اپنی امت کی آسانی کے لیے کبھی کبھی ایسا کرتا ہوں، گویا رسول خدا یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ اصل نماز پڑھنا واجب ہے، لیکن الگ الگ کر کے یا دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا، یہ واجب نہیں ہے، یعنی جو دو نمازوں کو الگ الگ کر کے پڑھ لے، اسکی نماز بھی ٹھیک ہے اور جو دو نمازوں کو مشترک وقت میں جمع کر کے پڑھ لے، اسکی بھی نماز ٹھیک ہے۔ نہ الگ الگ کر کے پڑھنے والا، کافر اور دین سے خارج ہے اور نہ ملا کر پڑھنے والا، کافر اور دین سے خارج ہے، کیونکہ خود اس شریعت کے بانی رسول خدا دونوں طرح سے نماز کو ادا کیا کرتے تھے۔
    رسول خدا کے جانشینان برحق یعنی آئمہ طاہرین و معصومین (ع) بھی رسول خدا (ص)کی سیرت مبارک پر عمل کرتے ہوئے، خود بھی دو نمازوں کو ملا کر پڑھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کام کے انجام دینے کا حکم دیا کرتے تھے۔ اسکے علاوہ جو بھی اس کام کے انجام دینے کے بارے میں سوال کیا کرتا تھا، آئمہ اسکے اس کام کی تائید بھی کیا کرتے تھے۔
    دوسرا حصہ: اہل سنت اور دو نمازوں کو جمع کرنے کا مسئلہ:
    اہل سنت کے اکثر مذاہب کی نظر میں دو نمازوں کو جمع کرنا، حالت سفر، حالت بارش، حالت بیماری اور حالت عذر وغیرہ میں، جائز ہے۔
    اس بارے میں اہل سنت کے مذاہب کے اقوال بھی مختلف ہیں کہ یہاں پر مختصر طور پر بعض کو ذکر کیا جا رہا ہے:
    1. حالت سفر اور دو نمازوں کو جمع کرنا:
    مذاہب اہل سنت دو نمازوں کے جمع کرنے کو ، اس سفر میں کہ جو سفر گناہ کرنے کے لیے نہ کیا گیا ہو، جائز جانتے ہیں۔
    ابو حنیفہ حج کے ایام میں روز عرفہ اور شب مزدلفہ کے علاوہ باقی مقامات اور حالات میں دو نمازوں کے جمع کرنے کو جائز قرار نہیں دیتا۔
    عالم اہل سنت ابن قدامہ نے اپنی کتاب میں سفر کی حالت میں دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں مذاہب اہل سنت کے اقوال کو بیان کیا ہے:
    نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو طولانی سفر میں ملا کر پڑھنا، بہت سے اہل علم علماء کے نزدیک جائز ہے۔ یہ قول سعد،‌ سعيد ابن زيد، اسامہ، معاذ ابن جبل، ابو موسی، ابن عباس اور ابن عمر سے نقل ہوا ہے۔ جبکہ عكرمہ، سفيان ثوری، مالک، شافعی، اسحاق، ابن منذر اور انکے علاوہ بہت سے علماء کا بھی یہی عقیدہ ہے۔
    حسن بصری، ابن سيرين اور اصحاب اہل رائے (پیروان ابو حنيفہ) دو نمازوں کے جمع کرنے کو فقط روز عرفہ اور شب مزدلفہ، جائز قرار دیتے ہیں۔
    المقدسي الحنبلي، شمس الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن قدامة (متوفى682هـ) ، الشرح الكبير على متن المقنع، ج 2، ص 115، ناشر: دار الكتاب العربي للنشر والتوزيع ـ بيروت.
    شوكانی دو نمازوں کے جمع کرنے کے عقیدے کے طرف داروں کے ناموں کو نقل کرنے کے بعد ، تصریح کرتا ہے کہ حسن بصری، نخعی اور ابو حنيفہ دو نمازوں کے جمع کرنے کو تمام حالات اور تمام مقامات پر جائز قرار نہیں دیتے:
    علماء کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ: دو نمازوں کو جمع کرنا، تمام حالات اور تمام مقامات پر جائز نہیں ہے، بلکہ فقط روز عرفہ اور مزدلفہ میں ایسا کرنا، جائز ہے، اور یہ حسن بصری،‌ نخعی، ابو حنيفہ اور اسکے پیروکاروں کا قول و رائے ہے۔

    الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفى 1255هـ)، نيل الأوطار من أحاديث سيد الأخيار شرح منتقي الأخبار، ج 3 ، ص 261، ناشر: دار الجيل، بيروت – 1973.

    لہذا سفر کی حالت میں دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں، مذاہب اہل سنت کے اقوال واضح اور معلوم ہو گئے ہیں۔
    2. حالت بارش اور دو نمازوں کو جمع کرنا:
    بارش کی حالت ایک ایسی حالت ہے کہ جسکے بارے میں اہل سنت نے کہا ہے کہ مشترک وقت والی دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔
    سيد سابق نے كتاب « فقہ السنۃ » میں اس بارے میں متعدد اقوال کے خلاصے کو ذکر کیا ہے:
    اس بارے میں مذاہب اہل سنت کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے:
    شافعیہ نے اس شخص کہ جو اپنے شہر میں مقیم ہے اور وہ حالت سفر میں نہیں ہے، اسکے لیے بارش کی صورت میں نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کے جمع کر کے پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔۔۔۔۔
    مالک ابن انس نے نماز مغرب و عشاء کے جمع کرنے کو مسجد میں ، اس بارش کی خاطر کہ جو برس چکی ہے یا بعد میں برسے گی، جائز قرار دیا ہے اور اسی طرح اس صورت میں کہ جب اندھیرا اور کیچڑ اتنا زیادہ ہو کہ عام لوگ جوتے نہ پہن سکتے ہوں تو بھی نماز مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھنا جائز ہے۔ لیکن بارش کی وجہ نماز ظہر و عصر کو ملا کر پڑھنا مکروہ است۔
    مذہب حنابلہ فقط نماز مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کی صورت میں، اور برف باری، ژالہ باری، مٹی و کیچڑ اور بہت ہی ٹھنڈی ہوا کہ جو لباس کو تر کر دیتی ہے، کی صورت میں نماز مغرب و عشاء کے جمع کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ ملا کر پڑھنا فقط ان لوگوں کے لیے ہے کہ جو مسجد میں نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جو دور سے چل کر مسجد آتے ہیں اور راستے میں بارش و برف کی وجہ سے انکو تکلیف ہوتی ہے، لیکن وہ شخص کہ جو مسجد میں ہے یا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے، یا بارش و برفباری کی صورت میں چھتری وغیرہ لے کر مسجد جاتا ہے، یا اسکا گھر مسجد کے نزدیک ہے، ان تمام کے لیے نماز کو ملا کر پڑھنا جائز نہیں ہے۔
    الشيخ سيد سابق (معاصر)، فقه السنة ، ج 1 ، ص 291 ، ناشر : دار الكتاب العربي – بيروت – لبنان
    اہل سنت کے تین رسمی و اصلی مذاہب کے عقیدے کو ذکر کیا جا چکا ہے اور ابو حنیفہ کی رائے بھی واضح ہے کہ وہ فقط روز عرفہ اور مزدلفہ میں دو نمازوں کے ملا کر پڑھنے کو جائز قرار دیتا ہے۔ اسکے علاوہ دوسرے حالات و مقامات پر جائز قرار نہیں دیتا۔
    3. حالت بیماری و عذر اور دو نمازوں کو جمع کرنا:
    بیماری اور عذر کی حالت میں بھی دو نمازوں کو ملا کر پڑھا جا سکتا ہے۔ اہل سنت کے مذاہب کا آپس میں اس بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ حنابلہ بیماری اور خطرے کی صورت میں نمازوں کے جمع کرنے کو جائز جانتے ہیں۔ ابو حنیفہ اور شافعی بیماری اور خطرے کی صورت میں نمازوں کے جمع کرنے کو جائز نہیں جانتے، لیکن شافعی کے بعض پیروکار بیماری اور خطرے کی صورت میں نمازوں کے جمع کرنے کو جائز جانتے ہیں۔
    سيد سابق نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:
    احمد ابن حنبل، قاضی حسين، خطابی اور شافعی کے بعض پیروکاروں کا عقیدہ یہ ہے کہ بیماری کی حالت میں دو نمازوں کو تقدیم یا تاخیر کی صورت میں جمع کرنا جائز ہے، کیونکہ بیماری کی تکلیف، بارش کی تکلیف سے زیادہ ہے۔
    حنابلہ نے اپنے عقیدے میں وسعت دی ہے اور دو نمازوں کو تقدیم یا تاخیر کی صورت میں ان لوگوں کے لیے جمع کرنا، جائز قرار دیا ہے کہ جنکو کوئی عذر ہے، یا جنکے لیے کوئی خوف اور خطرہ موجود ہو۔
    الشيخ سيد سابق (معاصر)، فقه السنة،ج1، ص 292
    ابن قدامہ نے مالكيہ ، ابو حنيفہ اور شافعی کے عقیدے کو ایسے بیان کیا ہے:
    مریض کے لیے دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا جائز ہے۔ یہ عطا اور مالک کا قول ہے۔ لیکن صاحبان رائے (پیروان ابو حنیفہ) اور شافعی اس صورت میں دو نمازوں کے جمع کرنے کو جائز قرار نہیں دیتے۔
    المقدسي الحنبلي، ابومحمد عبد الله بن أحمد بن قدامة (متوفى620هـ)، المغني في فقه الإمام أحمد بن حنبل الشيباني، ج 2 ص 117، ناشر: دار الفكر – بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ.
    یہاں تک دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے بارے میں اہل سنت کے اہم ترین اقوال کو بیان کیا گیا ہے۔ البتہ ان اقوال اور آراء کی مزید تفصیل کے لیے اہل سنت کی شرعی احکام والی کتب کی طرف رجوع کرنا بھی لازمی ہے۔

    نتيجہ:

    ذکر شدہ تمام اقوال اس مطلب کو ثابت کرتے ہیں کہ سفر کی حالت میں اور دوسری بعض صورتوں میں، دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا جائز ہے۔ اہل سنت کی روایات بھی اسی مطلب کی تائید کرتی ہیں۔
    قابل توجہ اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اہل سنت مذکورہ حالات اور مقامات کے علاوہ دو نمازوں کے جمع کرنے کو جائز قرار نہیں دیتے، حالانکہ یہ بات ان روایات کے مخالف ہے کہ جو مذکورہ حالات اور مقامات کے علاوہ بھی دو نمازوں کے جمع کرنے کو جائز قرار دیتی ہیں۔
    سفر و عذر کے علاوہ بھی دو نمازوں کو جمع کرنا اور اہل سنت کی صحیح و معتبر روایات:
    اہل سنت کی ان روایات کہ جو سفر، بارش، عذر، بیماری، خوف اور خطرے کی صورت میں دو نمازوں کے جمع کرنے کو جائز قرار دیتی ہیں، کے مقابلے پر اہل سنت کی ہی صحیح روایات موجود ہیں کہ جو بیان کرتی ہیں کہ رسول خدا (ص) مذکورہ موارد کے علاوہ بھی اپنے شہر ہوتے ہوئے اور بغیر کسی عذر کے کبھی کبھی دو نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے، کہ یہ روایات مذہب شیعہ کی بھی تائید کرتی ہیں۔
    مسلم نيشاپوری نے اپنی کتاب صحیح مسلم ایک باب تحت عنوان « بَاب الْجَمْعِ بين الصَّلَاتَيْنِ في الْحَضَرِ » ذکر کیا کہ بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ رسول خدا حالت سفر اور جنگوں میں نمازوں کو جمع کیا کرتے تھے، لیکن اسی باب کی بعض روایات ذکر کرتی ہیں کہ رسول خدا اپنے شہر میں ہوتے ہوئے بھی اور بغیر کسی عذر و ہنگامی حالت کے باوجود بھی دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھا کرتے تھے:
    روايت اول: حالت خوف اور سفر کے بغیر بھی دو نمازوں کا جمع کرنا:
    پہلی روایت مسلم نے ابن عباس سے نقل کی ہے کہ رسول خدا (ص)کی سیرت تھی کہ وہ سفر اور خوف کی حالت میں نہ ہونے کے باوجود بھی دو نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے:
    ابن عباس کہتا ہے کہ‌ رسول خدا (ص) نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو بغیر کسی حالت خوف اور بغیر کسی حالت سفر میں ہونے کے باوجود بھی ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
    النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفى261هـ)، صحيح مسلم، ج 1، ص 489، ح705، باب صلاة المسافرين ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
    الموطأ ، ص 73 ، ح 327؛ سنن أبي داود ، ج 2 ، ص 6 ، ح 1210 ، 1214؛ سنن النسائي ، ج 1 ، ص 315 ح 600؛ مسند أحمد بن حنبل ، ج 3 ، ص 292 وغیرہ
    روايت دوم: حالت خوف اور بارش کے بغیر بھی دو نمازوں کا جمع کرنا:
    ایک دوسری روایت میں ذکر ہوا ہے کہ ابن عباس نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص)سفر اور خوف کی حالت میں نہ ہونے کے باوجود بھی دو نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے اور آخر میں اس ملا کر پڑھنے کا سبب بھی بیان کیا ہے:
    ابن عباس نے کہا ہے کہ‌ رسول خدا (ص) نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ شہر میں ہوتے ہوئے، بغیر کسی حالت خوف اور بارش کے ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
    وکیع کی روایت میں آیا ہے کہ میں نے ابن عباس سے کہا کہ: رسول خدا کیوں دو نمازوں کو جمع کیا کرتے تھے ؟ ابن عباس نے جواب دیا: تا کہ امت کو زحمت نہ ہو۔
    اور ابو معاویہ کی روایت میں آیا ہے کہ ابن عباس سے کہا گیا کہ رسول خدا (ص) کا اس کام کرنے سے کیا مقصد تھا ؟ ابن عباس نے کہا: رسول خدا کا ایسا کرنے سے یہ ارادہ تھا کہ امت مشقت اور زحمت میں نہ پڑے۔
    النيسابوري القشيري، مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، ج1، ص490، ح705، باب صلاة المسافرين ؛ سنن الترمذي ، ج 1 ، ص 354 ، ح 187؛ سنن أبي داود ، ج 2 ، ص 6 ، ح 1211؛ سنن النسائي ، ج 1 ، ص 315 ، ح 601؛ وغیرہ
    روايت سوم: شہر میں ہوتے ہوئے بھی دو نمازوں کا جمع کرنا:
    ایک دوسری روایت میں ابن عباس نے رسول خدا (ص)کے شہر مدینہ میں ہوتے ہوئے بغیر کسی خوف و خطرے اور بارش وغیرہ کے ، دو نمازوں کے جمع کرنے کو ذکر کیا ہے، کہ اسی روایت کو بخاری اور مسلم نے ایسے ذکر کیا ہے:
    ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) نے مدینہ میں ہی 7 رکعت اور 8 رکعت نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو پڑھا تھا۔ (یعنی رسول خدا سفر میں نہیں تھے اور خطرہ و خوف و جنگ و بارش و آندھی وغیرہ بھی نہیں تھی، اسکے باوجود بھی انھوں نے نمازوں کو ملا کر پڑھا تھا)،

    البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفاى256هـ)، صحيح البخاري، ج1، ص201، تحقيق: د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة – بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987،
    النيسابوري القشيري، مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم ج 1، ص 491 باب صلاة المسافرين ،
    مسند أحمد بن حنبل ، ج3 ، ص 280 ، ح 1918 و ج 3 ، ص 283 ، ح 1929
    روايت چہارم: ابن عباس کہتا ہے کہ ہم رسول خدا کے زمانے میں نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے:
    اس روایت میں صحابی جلیل القدر ابن عباس واضح طور پر ذکر کر رہا ہے کہ ہم رسول خد (ص)ا کے زمانے میں نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے:
    عبد اللہ ابن شقیق عقیلی کہتا ہے کہ: ایک شخص نے تین مرتبہ ابن عباس سے کہا کہ نماز، نماز، نماز (یعنی نماز پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے) اور پھر چپ ہو گیا۔ ابن عباس نے کہا اوے کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ نماز کا وقت ہوا ہے یا نہیں ؟ حالانکہ ہم رسول خدا کے زمانے میں دو نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھا کرتے تھے۔
    النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، ج1، ص492،
    اس روایت میں عبارت « وَكُنَّا نَجْمَعُ بين الصَّلَاتَيْنِ على عَهْدِ رسول اللَّهِ » مطلق طور پر بغیر کسی قید و شرط کے ذکر ہوئی ہے، یعنی ابن عباس نے نہیں کہا کہ ہم رسول خدا کے زمانے میں حالت خوف یا حالت بارش وغیرہ میں دو نمازوں کو ملا کر پڑھا کرتے تھے، پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں فقط اور فقط اپنی کی آسانی کے لیے رسول خدا کبھی کبھی الگ الگ اور کبھی کبھی ملا کر دو نمازوں کو پڑھا کرتے تھے۔ یعنی الگ الگ کر کے نمازوں کو پڑھنا بھی سنت رسول ہے اور ملا کر نمازوں کو پڑھنا بھی سنت رسول ہے۔
    روایت پنجم: صحابی عثمان ابن سہل کا بھی رسول خدا کا دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنے کی تائید کرنا:
    عثمان ابن سہل کہتا ہے کہ میں نے ابو امامہ سے سنا تھا کہ اس نے کہا تھا کہ: ہم نے نماز ظہر کو عمر ابن عبد العزيز کے ساتھ پڑھا، پھر ہم وہاں سے نکل کر انس ابن مالک کے پاس گئے، ہم نے انس کو دیکھا کہ وہ ابھی تک نماز عصر پ‍ڑھ رہا تھا، میں نے کہا: اے چچا ! آپ یہ کونسی نماز پڑھ رہے تھے ؟ انس نے جواب دیا: نماز عصر، اور یہی تو وہ نماز ہے کہ جو ہم رسول خدا کے ساتھ بھی پڑھا کرتے تھے۔
    صحيح البخاري، ج1، ص202، ح524، كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، بَاب وَقْتِ الْعَصْرِ.
    نتيجہ:
    ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ:
    1. رسول خدا (ص) بغیر حالت سفر اور بغیر کسی خوف و خطرے و بارش وغیرہ کے دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھا کرتے تھے اور یہ مطلب اس بات پر دلیل ہے کہ نمازوں کو ملا کر پڑھنا فقط ان موارد میں ہی جائز نہیں ہے کہ اہل سنت بیان کرتے ہیں، بلکہ تمام حالات اور تمام مقامات پر دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا جائز ہے۔
    2. اہل سنت کی یہ صحیح روایات، شیعہ عقیدے کی تائید کرتی ہیں کہ نمازوں کو ملا کر پڑھنا بغیر کسی عذر اور مشکل کے بھی جائز ہے۔
    3. اہل سنت رسول خدا کے دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں، فقط ان روایات کو بیان اور عمل کرتے ہیں کہ جن میں بیان ہوا ہے کہ رسول خدا فقط عذر اور کسی مشکل کی صورت میں دو نمازوں کو جمع کیا کرتے تھے اور اپنی کتب میں ذکر شدہ ان روایات کو کہ جو شیعہ عقیدے کی تائید کرتی ہیں، اہل سنت ان روایات کو بالکل ذکر نہیں کرتے۔
    4. بد قسمتی سے اہل سنت اس بارے میں اپنی کتب میں ذکر شدہ صحیح و معتبر روایات کے سامنے ہڈ دھرمی اور ضد بازی سے کام لیتے ہیں اور کسی مسلمان کو بھی دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔
    5. قابل ذکر ہے کہ اہل سنت کی یہی لجاجت باعث ہوئی ہے کہ خود اہل سنت کے بہت سے جوان نماز اور عبادت سے دور ہو جائیں، کیونکہ اسی طرح الگ الگ نماز پڑھنے سے جوان اور عام لوگ نہ ٹھیک طرح سے پڑھ پاتے ہیں اور نہ اپنے کاروبار کی صحیح طرح سے دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر پانچ نمازوں کو تین وقت پر ادا کیا جائے تو کسی کے لیے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آتی اور ہر کوئی اپنے اپنے کام کو صحیح وقت پر انجام بھی دے پاتا ہے۔
    6. رسول خدا کا عام حالات میں بھی بغیر کسی مشکل اور عذر کے کبھی کبھی نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ گویا رسول خدا اس دور میں بھی اپنی امت کے آرام کا کتنا خیال تھا، کیونکہ جب پانچ نمازوں کو آرام سے تین اوقات میں پڑھا جا سکتا ہے کہ تو اتنی سختی سے پانچ وقت میں ہی نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے، بلکہ اسطرح سے جوانوں کو زیادہ سے زیادہ نماز اور مساجد کی طرف لایا جا سکتا ہے۔
    7. البتہ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے کہ اگر کوئی آرام سے بغیر کسی مشکل و زحمت کے پانچ نمازوں کو پانچ وقت میں پڑھ سکتا ہے تو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ان مطالب کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دین اسلام میں اصل نماز پڑھنا واجب ہے، لیکن اسی نماز کو الگ الگ کر کے بھی پڑھا جا سکتا ہے اور ملا کر کے بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

جواب دیں۔

براؤز کریں۔