غیر اسلامی بینکوں میں کام کرنا شرعا کیسا ہے؟

سوال

ھندوستان جیسے غیر اسلامی ملکوں کے بینکوں میں کام کرنا شرعا کیسا ہے ، کیا ان بینکوں سے تنخواہیں لینا حرام ہے ؟

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نیز آیت اللہ سیستانی کے فتوے کے مطابق ، بینکوں میں کام کرنا فی نفسہ حرام نہیں ہے ، البتہ اس طرح کے بینکوں کے معاملات دو طرح کے ہوتے ہیں :

    ۱۔ حرام معاملات :

    حرام معاملات جیسے : سود سے مربوط معاملات ، یا حرام اشیا جیسے شراب کی تجارت میں سرمایہ گذاری وغیرہ ۔ ۔ ۔

    ۲۔ حلال معاملات :

    مذکورہ معاملات کے علاوہ دیگر معاملات حلال ہیں ۔ ۔ ۔ مذکورہ معاملات کے علاوہ بینکوں کے اندر اداری امور سے متعلق اور بھی دیگر بہت سےکام ہوتے ہیں، جیسے : اندراج ، حساب کتاب ، نظارت ، کنٹرول، تبلیغات ، خرید و فروخت ،قسطوں میں سامان خریدوانا وغیرہ ۔ ۔ ۔

    اگر کوئی اول الذکر حرام معاملات میں عامل مباشر یا معاون نہ ہو تو اس کا کام حلال ہے اور تنخواہ بھی حلال ہے ۔ ورنہ کام کرنا بھی حرام اور تنخواہ بھی حرام ہے ۔

    خلاصہ یہ کہ غیر اسلامی بینکوں میں حلال اور حرام معاملات دونوں مخلوط ہوتے ہیں، اس بناپر اگر کوئی اس میں حرام معاملات سے بچ سکے اور صرف حلال امور میں ہی مصروف رہے تو ایسے تمام کام حلال بھی ہیں اور اس کے مقابلہ اجرت اور تنخواہ بھی حلال ہے ۔

    حوالے:

    اجوبه الاستفتائات ، آیۃ اللہ خامنہ ای

    Khamenei.ir

    استفتائات آیت الله سیستانی

جواب دیں۔

براؤز کریں۔