قرآن میں سات آسمانوں سے کیا مراد ہے ؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    قرآن کریم نے سات مقامات میں سات آسمان کا تذکرہ کیا ہے : بقره29 ـ اسراء 44 ـ مؤمنون 86 ـ فصلت 12 ـ ملك 3 ـ نوح15 ـ طلاق 12.
    پہلے دیکھتے ہیں «سماء» یعنی آسمان کسے کہتے ہیں : «سماء» لغت میں «سمو» لیا گیا ہے جو بلندي کے معني میں ہے لہذا ہر بلندی کو اس کی پستی کی بنسبت «سماء» یعنی آسمان کہتے ہیں، اسی طرح ہر پستی کو اس کی بلندی کی بنسبت زمین کہتے ہیں ۔ مفردات، راغب اصفهاني، المكتبه الرضويه، تهران، 1332 ش، ماده سماء.

    لفظ «سماء» اپنے دیگر مشتقات کے ساتھ 310 بار قرآن كريم میں استعمال ہوا ہے، اور یہ ایک ایسا جامع مفہوم ہے جس کے معانی اور مصاديق ایک نہیں بلکہ متعدد ہیں منجمله:

    ۱- آسمان یعنی بلندی اونچائی رفعت :اصلها ثابت و فرعها في السماء. ابراهيم 24. اس درخت کی طرح جس کی جڑیں زمین میں ثابت اور مستحکم ہیں اور اس کی شاخیں بلندیوں میں پھیلی ہوئی ہیں

    ۲-آسمان یعنی زمين سے اوپر کی فضا جہاں بادل ہیں :و نزلنا من السماء ماءً مباركاً. ق9. ہم نے آسمان سے بابرکت پانی کو نازل کیا .
    ۳- آسمان یعنی ستاروں اور سیاروں کا مقام : تبارك الذي جعل في السماء بروجاً و جعل فيها سراجاً و قمرا منيراً. فرقان 61. بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج قرار دیا اور اس میں چمکتا سورج اور روشن چاند قرار دیا ۔

    ۴- آسمان یعنی مقام قرب و مقام حضور جہاں سے عالم کے امور کی تدبیر ہوتی ہے : يدبّر الامر من السماء الي الارض. سجده 5 وہ ہے جو عالم کے امور کو آسمان سے زمین تک تدبیر کرتا ہے ۔

    ۵- آسمان یعنی اعلی و اشرف اور حقیقی وجود معارف قرآن، استاد مصباح يزدي، (انتشارات در راه حق، قم، 1367 ش)، ص 234 : و في السماء رزقكم و ما توعدون. ذاريات 22. تمہارا حقیقی رزق اور جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے وہ آسمان میں ہے ۔

    اب آئیے دیکھتے ہیں سات آسمان سے مراد کیا ہے، مفسرین کے اقوال کے مطابق عربی میں سبع (سات) کے معنی دو طرح کے ہیں ، ایک تو اس کا عددی معنی ہے جس سے مراد سات کا عدد ہے ، اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سبع کثرت کا استعارہ ہے، بہرحال جو بھی معنی مراد ہوں سات عدد ہو یا کثرت ہو اس دنیا میں جس کو ہم آسمان سمجھ رہے ہیں وہ آسمان اول ہے ، البتہ یہ آسمان اول وہ آسمان نہیں جو ہمیں دکھتا ہے ، کیونکہ سائینس کی نظر میں بھی یہ نیلا آسمان جو ہمیں دکھتا وہ در حقیقت کوئی فیزیکل شئی سے بنا کوئی گنبد نہیں ہے بلکہ حد نظر کا نام آسمان ہے ۔ Wikipedia.org

    تو جس طرح یہ آسمان حد نظر ہے اسی طرح آسمان اول بھی عالم ملک کا حد وجود ہے ۔ یہ دنیا ایک عالم ہے جسے عالم ملک بھی کہتے ہیں، اس عالم کا ایک آسمان ہے، البتہ نیلے گنبد والا آسمان نہیں ، بلکہ عالم ملک کا حد وجود پہلا آسمان ہے، اسی طرح اس عالم سے پرے اور بھی عوالم ہیں جیسے عالم ملکوت ، عالم جبروت ، عالم لاہوت اور ان تمام عوالم کے بھی آسمان ہیں ۔ اس معنی میں زمین اور آسمان مراد حد وجود ہے ۔ یہاں زمین مراد Earth نہیں ہے اور نہ ہی آسمان سے مراد Sky ہے بلکہ زمین سے مراد کسی بھی عالم کے کمترین کمالات Minimum Properties اور آسمان یعنی اسی عالم کے اعلی ترین کمالات Maximum Properties ہیں.

جواب دیں۔

براؤز کریں۔