ماہ ذیقعدہ میں اتوار کے دن کی نماز کا طریقہ اور اسکی فضیلت کیا ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    ماہ ذی القعدہ میں اتوار کے دن کی نماز چار رکعتی مستحب نماز ہے جو ذی القعدہ کے مہینے میں اتوار کے دن پڑھی جاتی ہے۔ احادیث میں اس نماز کی بہت زیادہ فضیلت نقل ہوئی ہے من جملہ ان میں گناہوں کی مغفرت اور دنیا سے ایمان کے ساتھ مرنا شامل ہیں۔
    کیفیت
    اس نماز کیلئے ضروری ہے کہ ذیقعدہ کے مہینے میں اتوار کے دن غسل اور وضو(غسل سے پہلے یا بعد میں) کرے اس کے بعد نماز صبح کی طرح اس دن کی نماز کی نیت سے دو رکعتی دو نماز پڑھیں جس کی ہر رکعت میں ایک بار سورہ حمد، تین بار سورہ توحید اور ایک ایک بار سوره ناس اور سورہ فلق کی تلاوت کرے اور نماز کے اختتام پر ستر بار استغفار(اَستَغفِرُ اللهَ و اَتوبُ إلیه) اور ایک بار ذکر لا حول و لا قوة الا بالله پڑھے اور آخر میں اس طرح دعا کرے: "یا عَزِیزُ یا غَفَّارُ اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی وَ ذُنُوبَ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ فَإِنَّهُ لَا یغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ[1]
    فضیلت
    اس نماز کے لئے بہت زیادہ ثواب ذکر کئے گئے ہیں من جملہ یہ کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص اس نماز کو بجا لائے اس کی توبہ‌ قبول ہو گی، اس کے گناہیں معاف کئے جائیں گے، اس کے دشمن قیامت کے دن اس سے راضی ہونگے، دنیا سے دین اور ایمان کے ساتھ مرے گا، اس کی قبر کشادہ اور نورانی ہوگی اور اس کے والدین اس سے راضی ہونگے؛ اسی طرح اس کے والدین اور ذریہ کو بھی بخش دی جائی گی؛ رزق و روزی میں اضافہ ہو گا؛ موت کے وقت ملک الموت اس سے مدارا کریں گے اور وہ آسانی سے جان دے گا و…[2]
    وقت
    اس نماز کو ذیقعدہ کے مہینے میں اتوار کے دن کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ حدیث کے آخری حصے کے مطابق [3] اگر دوسری مہینوں میں بھی اتوار کے دن پڑھی جائے تو بھی اس کا ثواب مل جاتا ہے۔
    سند حدیث
    سید بن طاووس نے کتاب اقبال الاعمال میں ماہ ذی القعدہ کے اعمال کے ضمن میں اس نماز سے متعلق ایک حدیث انس بن مالک کے توسط سے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں۔[4]

    حوالہ جات

    1.قمی، مفاتیح الجنان، اعمال ماہ ذیقعدۃ، اتوار کے دن کی نماز، ص۳۴۴.
    2.قمی، مفاتیح الجنان، اعمال ماہ ذیقعدہ، اتوار کی نماز، ص۳۴۴۔
    3.ابن طاووس، اقبال الإعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۳۰۸۔
    4.ابن طاووس، اقبال الإعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، صص ۳۰۸۔

جواب دیں۔

براؤز کریں۔