نماز یومیہ کے مخصوص اور فضیلت کے اوقات کیا ہیں ؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    یومیہ نمازوں کے لئے چار طرح کے وقت قابل تصور ہیں :

    وقت خاص : جس وقت صرف اسی خاص نماز کو پڑھا جا سکتا ہے ؛ دوسری نماز نہیں پڑھ سکتے ۔

    وقت عام : جس وقت ظہرین یا مغربین میں سے دونوں کو یکی بعد دیگری ملا کے پڑھا جا سکتا ہے۔

    وقت فضیلت : ہر نماز کا اپنا وقت فضیلت ہے ، ایسی صورت میں ظہرین اور مغربین کو الگ الگ پڑھا جائے ۔

    وقت قضا : وقت عام اور وقت خاص گذر جانے کے بعد جب ادا کی نیت سے نماز کو نہیں پڑھا جا سکتا ۔

    وقت نماز صبح

    وقت عام : فجر صادق سے لیکر طلوع آفتاب تک ۔

    وقت فضیلت : اذان صبح کے بعد سے ۲۱ منٹ تک ۔

    وقت قضا : طلوع آفتاب

    وقت نماز ظهر

    وقت عام : زوال آفتاب سے نماز عصر کے وقت خاص تک

    وقت خاص : ابتدائے اذان ظہر سے ۴ رکعت، اور اگر مسافر ہے تو ۲ رکعت ادا کرنے کی مدت تک

    وقت فضیلت : اذان ظہر کے بعد سے ۱ گھنٹہ ۴۰ منٹ تک

    وقت قضا : نماز عصر کا وقت خاص

    وقت نماز عصر

    وقت عام : ظہر کے وقت خاص کے بعد سے غروب آفتاب تک

    وقت خاص : قضا ہونے میں صرف ۴ رکعت یا اگر مسافر ہے تو صرف ۲ رکعت پڑھنے کا وقت بچا ہو

    وقت فضیلت : اذان ظہر کے ۲ گھنٹہ ۵۰ منٹ کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور ۴۲ تک رہتا ہے

    وقت قضا : غروب آفتاب

    وقت نماز مغرب

    وقت عام : زوال حمره‌ی مشرقیه (مغرب میں سورج ڈوبنے کے بعد مشرق کی طرف اس کی لالی رہتی ہے ، وہ مشرق کی لالی بھی جب ختم ہوجائے) سے نماز عشا کے وقت خاص تک

    وقت خاص : ابتدائے اذان مغرب سے ۳ رکعت ادا کرنے کی مدت تک

    وقت فضیلت : اذان مغرب کے بعد ۵۱ منٹ تک ۔

    وقت قضا : نماز عشا کا وقت خاص

    وقت نماز عشا

    وقت عام : مغرب کے وقت خاص کے بعد سے نصف شب شرعی تک

    وقت خاص : قضا ہونے میں صرف ۴ رکعت یا اگر مسافر ہے تو صرف ۲ رکعت پڑھنے کا وقت بچا ہو

    وقت فضیلت : اذان مغرب کے ۵۱ منٹ کے بعد سے شروع ہوتا اور ۳ گھنٹہ ۱۰ منٹ تک رہتا ہے ۔

    وقت قضا : نصف شب شرعی ۔

    حوالے:

    1. فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل بیت علیهم السلام.

    2. تحریر الوسیله، حضرت امام خمینی(ره).

    3. توضیح المسائل، آیت الله مکارم شیرازی.

    4. نرم افزار نجوم اسلامی، مرکز مطالعات و پژوهش های فلکی – نجومی، وابسته به دفتر حضرت آیت الله سیستانی.

    Hawzah.net

جواب دیں۔

براؤز کریں۔