والدین اور اولاد کے عاق کردینے کے کیا معنی ہیں؟

سوال

والدین اور اولاد کے عاق کردینے کے کیا معنی ہیں؟ یہ کن حالات میں محقق ہوتا ہے؟ اس کے نتائج کیا ہیں؟

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ

    لغوی اور اصطلاحی معنی
    عاق والدین کا معنی یہ ہے کہ فرزند اپنے والدین کو اپنی رفتار اور زبان کے ذریعے تکلیف پہنچائے۔ [1] البتہ "عقوق” کا لغوی معنی کاٹنا ہے، اس صورت میں عاق والدین کا مطلب، ان سے قطع رحمی کرنا ہے۔ [2] ملا مہدی نراقی نے عاق والدین کو قطع رحمی کی سب سے بری قسم کہی ہے اور وہ معتقد ہیں کہ جتنی قطع رحم کی مذمت کی گئی ہے اتنی ہی عاق والدین کی مذمت ہوئی ہے۔ عاق والدین، قوای غضبیہ اور شہویہ سے متعلق ہے، جو غضب، بخل اور حب دنیا سے نشئت لیتی ہے۔ [3]
    مصادیق
    عاق والدین، یعنی والدین یا ان دوںوں میں سے کسی ایک کو کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف پہنچانا یا انکے حقوق ادا نہ کرنا۔ روایات میں اس کے جو مصادیق ذکر ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں: غضبناک نگاہ، [4] حقوق کو ضائع کرنا،[5] ان کی درخواست پوری نہ کرنا، ان کے حکم کو نہ ماننا،[6] ملا احمد نراقی کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے بھی والدین کو تکلیف پہنچائی جائے وہ عاق حساب ہو گی۔ [7] امام صادق(ع) کی روایت میں ہے کہ والدین کو اف کہنا عاق والدین کا سب سے کم مصداق ہے اور اگر اس سے کم بھی کوئی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس سے بھی منع فرماتا۔ [8]
    نتائج، آثار
    عاق والدین ایک اخلاقی رذیلت ہے اور روایات میں اسے کبیرہ گناہ کہا گیا ہے [9] اور اس کے آثار درج ذیل ہیں:
    جنت اور حتی کہ اس کی خوشبو سے بھی محروم ہونا، [10] امام صادق(ع) کی روایت کے مطابق، قیامت کے دن جنت کے پردے ہٹائے جائیں گے، اور اس کی خوشبو پانچ سو سال دور تک ہر جاندار کو محسوس ہو گی صرف وہ افراد اس خوشبو کو محسوس نہ کر سکیں گے جنہیں والدین نے عاق کیا ہوگا۔[11] اسی طرح روایات میں "لا یدخل الجنة” (جنت میں داخل نہیں ہوں گے) یہ تعبیر عاق والدین کے لئے استعمال ہوئی ہے۔[12]
    جہنم میں داخل ہونا۔ [13]
    نماز قبول نہ ہونا، روایت میں آیا ہے کہ اگر کوئی اپنے ظالم والدین کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے گا، تو خدا اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا۔[14]
    دعا کا مستجاب نہ ہونا۔ [15]
    دنیا میں عذاب، پیغمبر(ص) کی روایت کے مطابق، عاق والدین ایسا گناہ ہے کہ جسں کی سزا انسان کو دنیا میں ہی ملتی ہے۔[16] ملا احمد نراقی کا کہنا ہے کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ عاق والدین کا نتیجہ، عمر میں کمی، زندگی میں بے مزگی، غربت، سکرات موت اور مشکل سے جان دینا ہے۔ [17]
    عذاب قبر، ملا مہدی نراقی کہتے ہیں کہ اگر کسی کی والدہ اس سے ناراض ہو تو اس کے لئے سکرات موت اور قبر کا عذاب بہت شدید ہو گا۔ [18]
    عاق والدین ان کی وفات کے بعد
    روایات کے مطابق، عاق والدین صرف والدین کے زندہ ہونے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ممکن ہے۔ جس طرح ان کے ساتھ نیکی کرنا صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں ہے۔ ممکن ہے کوئی والدین کی زندگی میں ان کے ساتھ مہربان ہو لیکن ان کی وفات کے بعد عاق ہو جائے مثال کے طور پر اگر کوئی والدین کی وفات کے بعد ان کا قرض ادا نہیں کرتا اور ان کے لئے طلب مغفرت نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص والدین کی زندگی میں عاق ہوا ہو لیکن ان کی وفات کے بعد نہیں۔ [19]
    ملا احمد نراقی کی نگاہ میں، عاق والدین سے نجات کے لئے ان کی تکالیف، راتوں کو جاگنا، اور اولاد کے لئے مشکلات برداشت کرنے کو یاد کیا جائے اور اسی طرح یاد رہے کہ والد کی بد دعا اللہ کے حضور مستجاب ہوتی ہے۔ [20]
    جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق ہیں اور انکے ادا نہ کرنے سے اولاد عاق ہو جاتی ہے اسی طرح اولاد کے بھی کچھ حقوق ہیں، اگر والدین انکی رعایت نہ کریں تو وہ بھی اولاد کی طرف سے عاق ہو سکتے ہیں۔ اولاد کے بعض حقوق مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ ادب سکھانا: امام سجاد علیہ السلام سے روایت ہے کہ : «و امّا حقّ ولدک فان تعلم انّه منک و مضاف الیک فی عاجل الدّنیا بخیره و شرّه و انّک مسئول عمّا ولیّته به من حسن الادب و الدّلالة على ربّه عزّ و جلّ و المعونة له على طاعته فاعمل فی امره عمل من یعلم انّه مثاب على الاحسان الیه معاقب على الاسائة الیه.»
    تمھاری اولاد کا تم حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ وہ تم سے ہے اور اس دینا کہ نیکی اور بدی میں تم سے منسوب ہے، اور جان لو کہ اسکی صحیح تربیت، اسکی اللہ تبارک و تعالی کی طرف رہنمائی اور اللہ کی اطاعت میں اسکی مدد کرنے کے سلسلہ میں ذمہ دار ہو۔ اپنے بچے کی تربیت میں تمھارا ہر عمل اس احساس کے ساتھ ہونا چاہئے کہ اسکے ہر اچھے عمل میں ثواب اور اسکے برے عمل میں عذاب میں شریک ہو۔ [۲۱]
    ۲ اچھا نام رکھنا: باپ پر اولاد کا ایک حق یہ ہے کہ اسکا اچھا نام رکھےچنانچہ امیر المؤمنین علیہ السلام کا ارشاد ہے
    حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ یحَسِّنَ اسْمَهُ وَ یحَسِّنَ أَدَبَهُ وَ یعَلِّمَهُ الْقُرْآنَ [۲۲]
    باپ پر اولاد کا ایک حق یہ ہے کہ اسکا اچھا نام رکھے، اسکو ادب سکھائے اور قرآن کی تعلیم دے۔
    ۳۔ اولاد کو خوشحال رکھنا:
    ابن عباس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے رویایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: من دخل السّوق فاشترى تحفة فحملها الى عیاله کان کحامل صدقة الى قوم محاویج و لیبدأ بالاناث قبل الذّکور فانّه من فرّح ابنته فکانّما اعتق رقبة من ولد اسماعیل و من اقرّ عین ابن فکانّما بکى من خشیة اللَّه و من بکى من خشیة اللَّه ادخله جنّات النّعیم
    جو شخص اپنے اہل و عیال کے لئے تحفہ خرید کر لے جائے وہ اس شخص کے مانند ہے کو کسی ضرورت مند کی مدد کرے، جب تحفہ لے کر گھر جائے تو پہلے بیٹی کو دے، کیونکہ جو اپنی بیٹی کو خوشحال کرے گویا اس نے ایک اولاد اسماعیل میں سے کوئی غلام آزاد کیا اور جس نے اپنے بچے کی آنکھوں میں خوشی پیدا کرے وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے خوف خدا میں گریہ کیا ہو۔ اور جو خوف خدا سے گریہ کرتا ہے دا اسکو نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرتا ہے۔[۲۳]
    ۴- تربیت ایمانی (اس سلسلہ میں اوپر حدیث نقل کی جا چکی ہے)
    ۵- اسکے کے لئے صحیح شغل کا انتخاب کرنا: کسی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! میرے بیٹے کا مجھ پر کیا حق ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اسکا اطھا نام رکھو، ادب سکھاو اور اسکے لئے مناسب شغل کا انتخاب کرو۔[۲۴]

    حوالہ جات

    1-نراقی، معراج السعاده، ۱۳۷۸ش، ص۵۳۲.
    2-فراہیدی، العین، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۶۳.
    3-نراقی، جامع السعادات، ۱۳۸۳ق، ج۲، ص۲۶۲.
    4-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۴۹.
    5-تمیمی آمدی، غرر الحکم، ۱۴۱۰ق، ص۶۷۱.
    6-نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۱۵، ص۱۹۴.
    7-نراقی، معراج السعاده، ۱۳۷۸ش، ص۵۳۲.
    8-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۴۹.
    9-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۷۶.
    10-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۴۹.
    11-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۴۹.
    12-حمیری، قرب الاسناد، ۱۴۱۳ق، ص۸۲.
    13-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۴۸.
    14-کلینی، الکافی، ج۲، ۱۴۰۷ق، ص۳۴۹.
    15-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۴۸.
    16-پاینده، نہج الفصاحہ، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵.
    17-نراقی، معراج السعاده، ۱۳۷۸ش، ص۵۳۲.
    18-نراقی، جامع السعادات، ۱۳۸۳ق، ج۲، ص۲۶۳.
    19-کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۶۳.
    20-نراقی، معراج السعاده، ۱۳۷۸ش، ص۵۳۲.
    21-محمد تقى فلسفى؛ الحدیت-روایات تربیتى، ج ۳، ص۲۱۴
    22-نهج البلاغه، حکمت ۳۹۹۔
    23-الحدیت-روایات تربیتى، ج ۲، ص: ۲۲۷
    24-ر.ک:الحدیت-روایات تربیتى ج ۱ص ۳۷۱

جواب دیں۔

براؤز کریں۔