کتنی عمر مین بچے پر نماز پڑھنے کے لئے زور دینا چاہئے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم ورحمۃ اللہ

    اسلامی روایتوں میں بچوں کو نماز کی طرف توجہ دلانےکی بہت زیادی تاکید کی گیئ ہے۔ امیرالمومنین (علیه‌السّلام) نے فرمایا: ’’علموا صبیانکم الصلاة‘‘ اپنے بچوں کو نماز کی تعلیم دو۔ (بروجردی، آقا حسین، جامع احادیث الشیعة، ج۲۶، ص۸۵۰.)
    البتہ نماز سکھانے میں چند چیزوں پر توجہ ضروری ہے:
    ۱۔ سن
    ۲۔ بچے کی صلاحیت
    ۳۔ بچے کا شوق
    ۴۔ سکھانے کا طریقہ۔
    اس سلسلہ میں امام باقر علیہ السلام کی ایک روایت ہے جس میں آپ نے بچے کی عمر کے اعتبار سے نماز سکھانے کے مراحل بتائیں ہیں۔
    امام فرماتے ہیں:
    : «اذا بلغ الغلام ثلاث سنین، یقال له: قل (لا اله الا الله) سبع مرات. ثم یترک حتی یتم له ثلاث سنین و سبعة اشهر و عشرون یوما، فیقال له: قل: (محمد رسول الله) سبع مرات. و یترک حتی یتم له اربع سنین، ثم یقال له قل: سبع مرات: (صلی‌الله‌علی‌محمدوآله) ثم یترک حتی یتم له خمس سنین، ثم یقال له: ایهما یمینک و ایهما شمالک؟ فاذا عرف ذلک حول وجهه الی القبلة و یقال له: اسجد. ثم یترک حتی یتم له سبع سنین، فاذا تم له سبع سنین قیل له: اغسل وجهک و کفیک، فاذا غسلهما قیل له: صل. ثم یترک حتی یتم له تسع سنین، فاذا تمت له علم الوضوء، و ضرب علیه، و امر بالصلاة، و ضرب علیها. فاذا تعلم الوضوء والصلاة غفر الله عزّوجلّ له و لوالدیه ان شاء الله؛ (طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، ص۲۲۲.)
    جب لڑکا تین سال کا ہو جائے، تو اس سے کہا جائے کہ سات مرتبہ (لا الہ الا اللہ ) کہے، پھر جب تک وہ تین سال سات ماہ اور بیس دن تک چھوڑ دیا جائے (اوراسی کی مشق کرائی جائے ). تین سال سات ماہ اور بیس کے سن کو پہنچ جانے کے بعد اس سے سات بار (محمد رسول اللہ) کہلوایا جائے، پھر چار برس کا ہونے تک چھوڑ دیا جائے ( اور اسی کی مشق کرائی جائے۔) اس کے بعد سات بار (صلی‌الله‌علی‌محمدوآله) کہلوایا جائے۔ اور پانچ سال کا ہو جانے تک چھوڑ دیا جائے ( اور اسی کی مشق کرائی جائے۔) پھر اس سے پوچھو: تمھارا داہنا اور بایاں ہاتھ کون سا ہے؟ اگر وہ بتا دے تو اسکا رخ قبلہ کی طرف موڑ دو اور اس سے کہا جائے: سجدہ کرو. پھر اسے سات سال کا ہونے تک چھوڑ دیا جائے ۔ جب وہ سات سال کا ہو جائے تو اس سے کہا جائے: چہرے اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے، اور نماز پڑھے. پھر اسے نو سال تک چھوڑ دیا جائے۔ نو سال کا ہو جانے کے بعد وضو سکھایا جائے اور ترک کرنے پر تنبیہ کی جائے، اور نماز سکھائی جائے اور ترک کرنے پر تنبیہ کی جائے۔
    ( لڑکی پر چونکہ ۹ سال کی عمر میں نماز واجب ہو جاتی ہے لہذا ظاہر ہے کہ اسکو نماز سکھانے کے مراحل
    ۹ سال سے سے پہلے ہی مکمل کرنا ہونگے۔)
    اس روایت میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
    ۱۔ بچے کو نماز مختلف مراحل میں سکھانی چاہئے۔
    ۲۔ نماز سکھانے کا آغاز آسان مرحلہ (لا اله الا الله) کہنے سے کرنا چاہئے۔
    ۳۔ نماز سکھانے کے ساتھ ساتھ اسکے آداب ( مثلا ) رو بہ قبلہ ہونا) بھی سکھانے چاہئے۔
    ۴۔ نماز سکھانے کے مراحل میں بچے کے سن اور اسکی صلاحیت کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
    ۵۔ نماز کے تمام مراحل بچے کے بالغ ہونے سے پہلے تمام ہو جانے چاہئیں۔

جواب دیں۔

براؤز کریں۔