کن صورتوں میں نجس لباس میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اس سلسله میں تقریبا اکثر مراجع کا نظریہ ہے کہ
    تین صورتوں میں جن کی تفصیل نیچے بیان کی جارہی ہے اگر نماز پڑھنے والے کا بدن یا لباس نجس بھی ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔
    (اول) اس کے بدن کے زخم، جراحت یا پھوڑے کی وجہ سے اس کے لباس یا بدن پر خون لگ جائے۔
    (دوم) اس کے بدن یا لباس پر درہم۔ جس کی مقدار تقریباً انگوٹھے کے اوپر والی گرہ کے برابر ہے۔ کی مقدار سے کم خون لگ جائے۔
    (سوم) وہ نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنے پر مجبور ہو۔ ( مثلا وقت تنگ ہو یا اسکے پاس کوئی اور لباس نہ ہو )
    علاوہ ازیں ایک اور صورت میں اگر نماز پڑھنے والے کا لباس نجس بھی ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ اس کا چھوٹا لباس مثلاً موزہ اور ٹوپی نجس ہو۔

    آیہ اللہ سیستانی مد ظلہ
    رسالہ آموزشی آیہ اللہ خامنہ ای مد ظلہ

    http://farsi.khamenei.ir

    توضیح المسائل مراجع،ج‌1، مسأله 848
    توضیح المسائل آیہ اللہ سیستانی مد ظلہ مسله 856

جواب دیں۔

براؤز کریں۔