کیا حاملہ نہ ہونے کے لئے ڈاکٹر کا قول حجت ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلام علیکم و رحمۃ اللہ
    کلی طور پر حاملہ نہ ہونے کے لئے دوا یا دوسرے وسائل کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے ڈاکٹر کے کہنے کی وجہ سے ہو یہ اپنی مرضی سے۔ البتہ دائمی طور پر اپنے کو بانجھ بنانا جائز نہیں ہے۔
    لیکن حمل ٹہر جانے کے بعد اسے گرانا کسی بھی صورت میں جایز نہیں ہے مگر یہ کہ ماں کی جان کو خطرہ ہو یا بچہ کا باقی رہنا ماں کے لیے بہت سخت اور غیر قابل تحمل ہو اور اس سے نجات کا سقط کے سوا کوئی راستہ نہ ہو اس صورت میں بچہ میں روح آنے سے پہلے سقط کرنا جایز ہوگا، لیکن روح آنے کے بعد اس کا سقط کرنا کسی بھی حالت میں جایز نہیں ہے۔
    ناقص پیدا ہونے یا کچھ دن کے بعد مر جانے کا احتمال یا یقین اس کے سقط کا سبب نہیں بن سکتا اور ماں اس بناء پر ڈاکٹر کو سقط کی اجازت نہیں دے سکتی اور ڈاکٹر بھی اسے سقط نہیں کر سکتے، اور اگر اس خطرے کی وجہ سے بچہ سقط کر دیا جائے تو سقط کرنے والے پر دیت واجب ہوتی ہے۔

    دفتر نهاد نمایندگی رهبری در دانشگاہ علوم پزشکی ، احکام شرعی پزشکان، پرستاران ، سوالات دربارہ جلوگیرى از انعقاد نطفه

    استفتائات آیۃ اللہ خامنہ ای۔ ٍٍ پزشکی
    استفتائات آیۃ اللہ سیستانی، مسائل حمل

جواب دیں۔

براؤز کریں۔