اگر لڑکی کا خاندان ایک ہی بار میں مکمل جہیز خریدنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اور وہ اپنی سالانہ آمدنی سے آہستہ آہستہ جہیز کا سامان خریدے، تو کیا اس پر خمس واجب ہوگا؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
آیاتِ عظام روحالله خمینی، علی خامنهای، علی سیستانی، محمد فاضل لنکرانی، حسین وحید خراسانی اور حسین نوری همدانی کے مطابق اگر سال کے دوران اسی سال کی آمدنی سے جہیز خریدا گیا ہو اور وہ اس کی شان سے زیادہ نہ ہو، تو اس پر خمس نہیں ہے۔
آیاتِ عظام محمد تقی بهجت اور لطفالله صافی گلپایگانی کے نزدیک اگر جہیز اس وقت خریدا جائے جب لڑکی شادی کی عمر میں ہو، تو اس پر خمس نہیں ہے۔
میرزا جواد تبریزی کے مطابق جو سامان شادی والے سال میں خریدا گیا ہو اس پر خمس نہیں، لیکن جو سامان اس سے پہلے کے سالوں میں خریدا گیا ہو، اس پر بنا بر احتیاطِ واجب خمس ادا کرنا ہوگا۔ البتہ اگر لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے کچھ اموال اسے ہبہ کیے گئے ہوں، تو ان پر خمس دینا لڑکی پر واجب نہیں۔
ناصر مکارم شیرازی کے مطابق اگر پہلے سے جہیز تیار کرنا لوگوں کے درمیان رائج ہو اور عام خرچ شمار ہوتا ہو، یا نہ کرنے کو عیب سمجھا جاتا ہو، تو اس پر خمس نہیں ہے۔