اگر کسی شخص کو طواف کے چکروں (اشواط) کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ طواف کو باطل سمجھ کر دوبارہ طواف شروع کر دے، لیکن دوسرے طواف کے دوران معلوم ہو کہ پہلے طواف میں مثلاً چھ چکر مکمل ہو چکے تھے، تو کیا دوسرا طواف کافی ہوگا؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
اگر اشواطِ طواف میں شک ہونے کے بعد طواف کو باطل سمجھ کر دوبارہ طواف کیا جائے، اور دورانِ طواف معلوم ہو کہ پہلا طواف مثلاً چھ چکروں پر مشتمل تھا، تو صرف اسی نئے طواف پر اکتفا کرنا محلِ اشکال ہے
آیت اللہ سیستانی کے نزدیک دوسرا طواف صحیح شمار ہوگا، لہٰذا اسی کو مکمل کر لینا کافی ہے۔