کہا جاتا ہے کہ حالتِ حیض میں قرآن پڑھنے کے لیے وضو کر لینا چاہیے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب حیض وضو کو باطل کر دیتا ہے تو اس حالت میں وضو کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اور کیا ایسا وضو صحیح ہوتا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. مذکورہ وضو صحیح ہے۔ مستحب ہے کہ حائضہ عورت نماز کے وقت اپنے آپ کو خون سے پاک کرے، روئی اور کپڑا تبدیل کرے، وضو کرے اور جائے نماز پر قبلہ رخ بیٹھ کر ذکرِ الٰہی، دعا، صلوات اور تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو۔ اس وقت قرآن کی تلاوت مکروہ نہیں ہے۔

    (استفتاءاتِ جدید، مقامِ معظم رہبری

جواب دیں۔

براؤز کریں۔