Shotgun سے شکار کرنے کا کیا حکم ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب (مطابقِ نظر آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای):
اصولی طور پر شکار کا جواز متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تابع ہے۔ لہٰذا اگر کسی جانور یا پرندے کے شکار پر قانونی پابندی ہو تو اس کا شکار کرنا جائز نہیں۔ لیکن اگر قانونی ممانعت نہ ہو تو فی نفسہٖ شکار کرنے میں کوئی اشکال نہیں۔
البتہ شکار کے حلال ہونے کے لیے شرعی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ:
ساچمہ یا گولی نوکیلی ہو اور جانور کے جسم میں داخل ہو کر اسے زخمی یا پارہ کرے۔
اگر گولی نوکیلی نہ ہو بلکہ صرف زورِ ضرب سے جانور کو مار دے، یا حرارت کی وجہ سے جسم کو جلا دے اور جانور جلنے کی وجہ سے مر جائے، تو ایسے شکار کے پاک اور حلال ہونے میں اشکال ہے۔
ماخذ: ہدانا ویب سائٹ، استفتاءاتِ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای سے ماخوذ۔