سوال: کیا حضرت اباعبداللہ الحسینؑ کے ایامِ عزا میں سیاہ لباس پہننا مکروہ نہیں ہے؟ جبکہ عمومی حکم یہ ہے کہ سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے اور اس میں نماز پڑھنا بھی مکروہ شمار ہوتا ہے۔ نیز اگر کسی نے سیاہ لباس پہننے کی نذر کی ہو تو کیا اس کی نذر صحیح ہے؟
سوال
Answer ( 1 )
جواب:
ہمارے پاس ایک عمومی حکم موجود ہے کہ گہرے سیاہ رنگ کا لباس پہننا مکروہ ہے، اور اس میں نماز پڑھنے سے بھی نماز کے ثواب میں کمی آتی ہے۔ یہ فتویٰ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (دام ظلہ) کا بھی ہے۔ البتہ اس حکم میں کچھ استثنائیں ہیں؛ مثلاً عبا، عمامہ اور جوتے اگر سیاہ ہوں تو ان کے بارے میں کراہت نہیں ہے۔
اسی طرح ایک عمومی حکم یہ بھی ہے کہ صاحبِ عزا کے لیے مناسب ہے کہ اس کے عزادار ہونے کی علامت نمایاں ہو۔ موجودہ زمانے میں امام حسینؑ اور دیگر ائمۂ معصومینؑ کی عزاداری میں سیاہ لباس پہننا اسی بات کی نشانی سمجھا جاتا ہے کہ انسان عزادار ہے۔ لہٰذا اس صورت میں سیاہ لباس پہننے پر کراہت کا حکم جاری نہیں ہوتا۔
چنانچہ اگر کسی نے شرعی شرائط کے مطابق نذر کی ہو تو اس پر لازم ہے کہ اپنی نذر کے مطابق عمل کرے، بشرطیکہ اس کے لیے ممکن ہو۔
البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ عزاداری کے مختلف طریقے ہیں۔ سیاہ لباس پہننا ان میں سے ایک طریقہ ہے۔ اسی طرح خوشی و مسرت کے اظہار سے پرہیز کرنا، گریہ کرنا اور دیگر مناسب انداز میں غم و اندوہ کا اظہار کرنا بھی عزاداری کی صورتیں ہیں۔ امید ہے کہ ہم سب ان ایامِ سوگواری میں عزاداری کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ سکیں گے۔
ماخذ: دفتر حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (دام ظلہ)، حجۃ الاسلام والمسلمین فلاح زادہ، احکامِ عزاداری۔