مشہور ہے کہ اگر غورہ (کچے انگور) کا رس نکالنے کے لیے اسے جوش دیا جائے اور اس کے ساتھ ایک یا چند دانے پکے انگور کے بھی موجود ہوں، تو جو چیز جوشنے کے بعد باقی رہتی ہے وہ حرام ہو جاتی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب: شہید امت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے فتوے کے مطابق
اگر انگور کے دانے بہت کم مقدار میں ہوں اور ان کا رس غورہ کے رس میں اس طرح مستہلک (گم) ہو جائے کہ مجموعے پر "انگور کا رس” (آبِ انگور) کا عنوان صادق نہ آئے، تو وہ حلال ہے۔
لیکن اگر انگور کے دانے الگ سے آگ پر جوش دیے جائیں، تو ان کا کھانا حرام ہے۔