عورت کی آواز سننے کا کیا حکم ہے جب وہ شعر یا کسی اور متن کو ترنم کے بغیر پیش کرے؟ کیا اس حکم میں یہ فرق ہے کہ سننے والا جوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت؟ اور اگر پڑھنے والی عورت محرم ہو تو کیا حکم ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب (مطابقِ نظر آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای):
اگر عورت کی آواز غِنا (لہوی گانے) کی صورت میں نہ ہو، اور اس کی آواز سننا لذت و ریبہ (شہوانی قصد) کے ساتھ نہ ہو، نیز اس پر کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہوتا ہو، تو اس کی آواز سننے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
اس حکم میں کوئی فرق نہیں کہ:
سننے والا جوان ہو یا بوڑھا؛
مرد ہو یا عورت؛
اور نہ ہی اس میں محرم اور غیر محرم کا فرق ہے۔