اگر مرجعِ متوفیٰ اور مرجعِ زندہ علم و تقویٰ میں برابر ہوں، تو تقلیدِ میت پر باقی رہنے کا کیا حکم ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
آیاتِ عظام امام خمینی، خامنہ ای، فاضل لنکرانی اور نوری ہمدانی:
جو شخص بعض مسائل میں کسی مجتہد کے فتوے پر عمل کر چکا ہو، اس مجتہد کے انتقال کے بعد تمام مسائل میں اس کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔
آیاتِ عظام بہجت اور مکارم شیرازی:
صرف انہی مسائل میں تقلیدِ میت پر باقی رہ سکتا ہے جن پر اس نے پہلے عمل کیا ہو۔
آیت اللہ وحید خراسانی:
اگر وہ مجتہد جس کی تقلید انسان پر واجب تھی (کم از کم اس کی زندگی کا زمانہ اس نے پایا ہو) وفات پا جائے، تو جب تک زندہ مجتہد کی اس پر اعلمیت ثابت نہ ہو جائے، بلکہ مساوات کی صورت میں بھی، میت مجتہد کے فتوے پر عمل کرنا چاہیے۔
آیت اللہ تبریزی:
صرف ان مسائل میں تقلیدِ میت پر باقی رہ سکتا ہے جنہیں اس نے عمل کے لیے سیکھا تھا۔
آیت اللہ صافی گلپایگانی:
جس شخص نے بعض مسائل میں مجتہد کے فتوے پر عمل کیا ہو یا عمل کی نیت سے انہیں سیکھا ہو، وہ تمام مسائل میں اس کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔
آیت اللہ سیستانی:
جس شخص نے بعض مسائل میں کسی مجتہد کے فتوے پر عمل کرنے کا ارادہ کیا ہو، اگرچہ ابھی عمل نہ کیا ہو، تو اس کے انتقال کے بعد تمام مسائل میں اس کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔ البتہ جن موارد میں اجمالی طور پر تکلیف کا علم ہو، وہاں احتیاطِ واجب کی بنا پر دونوں فتووں کا لحاظ کرنا ضروری ہے، جیسے قصر و تمام نماز کے بعض اختلافی مسائل۔