بیرونِ ملک (غیر مسلم ممالک) میں طالبِ علمی کی زندگی کے دوران غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات اور میل جول ناگزیر ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ان کے تیار کردہ کھانے پینے کی اشیاء استعمال کرنے کا کیا حکم ہے، جبکہ ان میں کوئی حرام چیز (جیسے غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا گوشت) شامل نہ ہو، لیکن یہ احتمال ہو کہ کسی غیر مسلم کے تر ہاتھ ان اشیاء سے لگے ہوں؟

سوال

Answer ( 1 )

  1. جواب: شہید امت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے فتوے کےمطابق

    محض یہ احتمال کہ کسی غیر مسلم کے تر ہاتھ کھانے کی چیزوں سے لگے ہوں، اجتناب واجب ہونے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ جب تک یقین نہ ہو کہ ایسا ہوا ہے، ان چیزوں کو پاک شمار کیا جائے گا۔

    مزید برآں، اگر وہ غیر مسلم اہلِ کتاب (جیسے عیسائی یا یہودی) ہو تو وہ ذاتی طور پر نجس نہیں ہے، اور اس کے تر ہاتھ لگنے سے بھی چیز نجس نہیں ہوتی۔

    ماخذ: ہدانا ویب سائٹ، استفتاءاتِ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای سے ماخوذ۔

جواب دیں۔

براؤز کریں۔