عقد کے بعد اور رخصتی سے پہلے، جبکہ لڑکی اپنے والد کے گھر میں رہ رہی ہو، کیا اس کے نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہوتی ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
آیاتِ عظام روحالله خمینی، محمد تقی بهجت، علی خامنهای، لطفالله صافی گلپایگانی، محمد فاضل لنکرانی، ناصر مکارم شیرازی اور حسین نوری همدانی کے مطابق، اگر عورت تمکین کے لیے آمادہ ہو تو اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے۔
آیاتِ عظام میرزا جواد تبریزی اور حسین وحید خراسانی کے نزدیک اس صورت میں نفقہ شوہر پر واجب نہیں ہے۔
آیت اللہ سیستانی کے مطابق اگر اس شہر میں عرف یہ ہو کہ لڑکی کا خرچ اس کے والدین اٹھاتے ہیں، تو شوہر پر نفقہ واجب نہیں؛ ورنہ نفقہ ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔