جو اعمال انسان نے بغیر تقلید کے انجام دیے ہوں، ان کا کیا حکم ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
آیاتِ عظام امام خمینیؒ، بہجتؒ، خامنہ ای، فاضل لنکرانیؒ اور نوری ہمدانی کے مطابق:
ایسے اعمال درج ذیل تین صورتوں میں صحیح شمار ہوں گے:
۱۔ انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس نے اپنے واقعی شرعی فریضے کے مطابق عمل کیا ہے۔
۲۔ اس کا عمل اس مجتہد کے فتویٰ کے مطابق ہو جس کی تقلید کرنا اس وقت اس پر واجب تھا۔
۳۔ اس کا عمل اس مجتہد کے فتویٰ کے مطابق ہو جس کی اب اسے تقلید کرنی چاہیے۔
آیاتِ عظام تبریزیؒ، صافی گلپایگانیؒ، مکارم شیرازی اور وحید خراسانی کے مطابق:
عمل اس وقت صحیح ہوگا جب:
معلوم ہو جائے کہ اس نے واقعی شرعی حکم کے مطابق عمل کیا ہے، یا
اس کا عمل اس مجتہد کے فتویٰ کے مطابق ہو جس کی اب اسے تقلید کرنی چاہیے۔
آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے مطابق:
عمل درج ذیل تین صورتوں میں صحیح ہے:
۱۔ معلوم ہو جائے کہ اس نے اپنے واقعی شرعی فریضے کے مطابق عمل کیا ہے۔
۲۔ اس کا عمل اس مجتہد کے فتویٰ کے مطابق ہو جس کی اب اسے تقلید کرنی چاہیے۔
۳۔ وہ جاہلِ قاصر ہو (یعنی حکمِ شرعی نہ جاننے میں اس کی کوئی کوتاہی نہ ہو) اور اس کے عمل کی کمی ارکانِ عبادت یا ان جیسے بنیادی امور سے متعلق نہ ہو۔