حالتِ حیض میں عورت کے لیے ائمۂ معصومینؑ کے حرم میں جانے کا کیا حکم ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
تمام مراجعِ کرام (سوائے آیات عظام محمد تقی بهجت، لطفالله صافی گلپایگانی اور حسین وحید خراسانی کے) کے نزدیک حائضہ عورت کے لیے حرمِ مطہرِ امامِ معصومؑ سے گزرنا جائز ہے، لیکن بنا بر احتیاطِ واجب وہاں ٹھہرنا نہیں چاہیے۔
آیت اللہ محمد تقی بهجت کے مطابق حائضہ عورت کا حرمِ امامِ معصومؑ میں داخل ہونا جائز نہیں، چاہے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے باہر نکل جائے۔
آیت اللہ لطفالله صافی گلپایگانی کے مطابق بنا بر احتیاطِ واجب حائضہ عورت کو حرمِ امامِ معصومؑ میں داخل نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جائے۔
آیت اللہ حسین وحید خراسانی کے مطابق حائضہ عورت کا حرم میں ٹھہرنا جائز نہیں، اور بنا بر احتیاطِ واجب ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے باہر نکل جانا چاہیے۔